خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 61
خطبات ناصر جلد اول ۶۱ خطبه جمعه ۲۴؍دسمبر ۱۹۶۵ء لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ کہ وہ ہدایت پر استقامت سے قائم ہو جائیں۔رشد کے معنی ہیں نیکیوں پر دوام اور یہ بڑی ضروری چیز ہے جوشخص چند روز ہ نیکیوں کے بعد پھر ا پنی زندگی کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی بغاوت میں گزارتا ہے وہ اس کے فضلوں کو کبھی حاصل نہیں کر سکتا۔اس کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے رُشد کی ضرورت ہے اور رُشد کے معنی عربی زبان میں یہ ہیں کہ ہدایت پا گیا اور اس پر قائم رہا۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تمہارے لئے ہدایت کے سامان بھی مہیا فرمائے ہیں اور پھر تم ماہ رمضان میں قبولیت دعا کے نمونے بھی دیکھتے ہو لیکن اگر تم مستقل طور پر میری اطاعت کو اختیار نہیں کرو گے تو میرے فضل بھی تم پر مستقل طور پر نازل نہیں ہوں گے اور نہ ہی تمہارا انجام بخیر ہوگا۔انجام بخیر اسی کا ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر رکھے۔الغرض اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان دو چھوٹی سی آیات میں جو حکمت اور ہدایت کی باتیں بتائی ہیں اس سے جو نتیجے نکلتے ہیں ان میں سے اول تو یہ ہے کہ رمضان شریف کا قرآن مجید کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اس لئے رمضان شریف میں تلاوت قرآن مجید بڑی کثرت سے کرنی چاہیے۔ہمارے بعض بزرگ تو ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمریں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کے جمع کرنے میں گزار دیں۔لیکن جب رمضان آتا تو وہ حدیث کا سارا کام بستوں میں لپیٹ دیتے اور کہتے کہ اب یہ قرآن مجید پڑھنے کا مہینہ ہے۔حتی کہ ان میں سے کئی ایک تو ایک ایک دن میں قرآن کریم کا دور ختم کرتے یعنی رمضان شریف کے ایک مہینے کے اندر وہ تیس دفعہ قرآن کریم کو پڑھتے۔دوسری بات یہ کہ جب قرآن ھدی للناس ہے۔اور اس میں بَيِّنَاتِ ہدایت بھی درج ہیں اور پھر وہ الفرقان بھی ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم تلاوت کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیات پر غور کریں اور فکر اور تدبر سے کام لیں اور ساتھ ہی دعا بھی کریں کہ اے اللہ ! ہمیں علم قرآن عطا کر اور اس کے حقیقی معنی سمجھا۔