خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 749
خطبات ناصر جلد اول ۷۴۹ خطبہ جمعہ ۱۶ جون ۱۹۶۷ء اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : - اُتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتب (العنکبوت : ۴۶) کہ اپنے رب کی کتاب میں سے جو وحی تیرے پر نازل ہو رہی ہے ( وحی کا سلسلہ اس وقت جاری تھا) اس کی تلاوت کر ، یعنی اس پر عمل پیرا ہو اور اسے پڑھ ( آدمی جو کچھ پڑھتا ہے وہ دوسروں کو سنانے کے لئے بھی پڑھتا ہے اور اپنے لئے بھی اور چونکہ پہلے مخاطب اس کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اسی لئے اس کے معنی یہ ہوں گے کہ عمل پیرا ہو کر ان لوگوں کے لئے قابل تقلید نمونہ بن جا) انبیاء علیہم السلام کے متعلق قرآن کریم نے ہمیشہ یہ فرمایا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا دعوئی اور ندا یہی ہوتی ہے کہ میں اول المسلمین ہوں یعنی سب سے پہلے میں ہی ان احکام اور نواہی پر عمل کرنے والا ہوں، میں اپنی گردن خدا کے حکم کے نیچے رکھتا ہوں اور اس رنگ میں تمہارے لئے بطور قائد کے ایک نمونہ پیش کرتا ہوں میں یہ نہیں کہتا کہ یہ راستہ اللہ تک پہنچاتا ہے تم اس پر چلو میں یہ کہتا ہوں کہ یہ راستہ خدا کی طرف پہنچانے والا ہے، میں اس پر چل رہا ہوں میرے پیچھے پیچھے آؤ تا کہ تم بھی خدا تک پہنچ جاؤ۔پس لغوی معنی کے لحاظ سے علم وعمل سے اس کی اتباع کرنا مفردات راغب کے نزدیک تلاوت کے معنی میں شامل ہے، علم سے اتباع کرنا حکمت کی باتیں بتا کر اور عمل سے اتباع کرنا ان باتوں کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال کر۔غرض اللہ تعالیٰ نے یہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے یہ کہلوایا کہ وَ اَنْ اَتْلُوا الْقُرآن مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ میں یہ قرآن تمہیں پڑھ کے سناؤں۔قرآن کا لفظ خود قرآن کریم نے آیات کے لئے بھی استعمال کیا ہے۔فرمایا بَلْ هُوَ ايت بيّنت (العنکبوت :۵۰) کہ یہ آیات بینات ہیں اور اس لئے ان اتلوا القرآن کے معنی یہ ہوں گے کہ میں آیات بینات تمہارے سامنے پڑھ کے سناؤں۔اسی طرح قرآن کریم کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ وہ ایک کامل شریعت ہے۔اس لئے اَنْ اَتْلُوا الْقُرآن کے معنی یہ ہوں گے کہ خدا نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تمہارے سامنے کامل شریعت کتاب کی شکل میں بھی اور اوَلُ الْمُسْلِمِينَ کی شکل میں بھی رکھوں کیونکہ جب آپ کے اخلاق کے متعلق سوال کیا گیا تو حضرت عائشہ نے فرمایا تم قرآن کو پڑھ لو كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ )۔پس دعا یہ تھی کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايْتِكَ وہ نبی آیات بینات دنیا کے سامنے پیش کرتا چلا جائے