خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 722
خطبات ناصر جلد اول ۷۲۲ خطبہ جمعہ ۲ جون ۱۹۶۷ء لے کے آیا ہے اگر اتباع کریں تو اپنے ملک سے اُچک لئے جائیں گے ، دنیا ہماری دشمن ہو جائے گی اور ہماری مخالف ہو جائے گی ہمیں تباہ و برباد کرنے کے لئے تیار ہو جائے گی ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے ہم اس ہدایت پر ایمان لا کر اپنی تباہی کے سامان کیوں پیدا کریں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے او لَمْ تُمَكِن لَّهُمْ حَرَمًا اُمِنًا کیا وہ جانتے نہیں کہ ہم نے اس نبی کا اور اس شریعت کا تعلق حرم کے ساتھ رکھا تھا اور بیت اللہ کو ایک علامت بنایا تھا اس بات کی کہ یہ نبی اور اس کے ماننے والے اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہوں گے اور جو شریعت اس پر نازل ہوگی اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی محض اور محض اللہ تعالیٰ کے اوپر ہوگی۔دنیا کی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حرم کعبہ کی حفاظت کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دکھایا حملہ آور ہمیشہ منہ کی کھاتے رہے اور نا کام ہوئے اور دنیا اس بات پر بھی گواہ ہے اور گواہ بنتی رہے گی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مقصد کو دنیا کی کوئی طاقت، دنیا کا کوئی منصوبہ، دنیا کی کوئی سازش کبھی تباہ نہیں کر سکتی اور نہ کوئی دجل قرآن کریم کی شریعت میں دخل پا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم نے ان کو محفوظ اور امن والے مکان میں جگہ دی ہے۔حرم کعبہ میں بھی ، حرم عصمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میں بھی اور حرم شریعت اسلامیہ حرم قرآن کریم میں بھی۔یہ تمام محفوظ چیزیں ہیں۔محفوظ ہستیاں ہیں، محفوظ مقام ہیں، اگر تم اس حرم کے ساتھ اپنے تعلق کو قائم کرو گے تو جس طرح حرم خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہے، اسی طرح تم بھی اس کی حفاظت میں آجاؤ گے اور یہ بات غلط ہوگی کہ يُتَخَطَفُ مِنْ أَرْضِنَا دنیا کی کوئی طاقت تمہیں برباد کر سکے۔اور پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔يُجْبَى إِلَيْهِ ثَمَرتُ كُلِّ شَيْءٍ کہ اس حرم کے ساتھ ہم نے یہ بات بھی لگا دی ہے کہ ہر قسم کے پھل یہاں لائے جاتے ہیں یعنی اس سے تعلق قائم کر کے ہر قسم کے اعمال صالحہ بجالا ناممکن بھی ہو جاتا ہے۔اس کی توفیق بھی اللہ تعالیٰ سے انسان پاتا ہے اور اس کے بہترین نتائج کا وعدہ بھی دیا گیا ہے پس جو بھی خلوص نیت رکھتا ہو اور اس کے اندر کسی قسم کا