خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 684 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 684

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۸۴ خطبه جمعه ۱۲ رمئی ۱۹۶۷ جاتے ہیں ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نشان ظاہر کرتا رہتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت کے طفیل آپ کے ماننے والوں پر یہ حقیقت بھی وضاحت کے ساتھ ثابت ہو چکی ہے کہ اس قسم کی باتیں عام طور پر ظاہر نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ ان کے نتیجہ میں انانیت پیدا ہوتی ہے اور بعض دفعہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو انسان مول لینے والا نہ ہو جائے۔تو قرآن کریم سے نیز جو نمونہ اولیاء امت کا تاریخ میں محفوظ ہے اور جو سلوک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق اور اپنی رضاء کی راہوں میں فدا ہونے والوں سے اللہ تعالیٰ کرتا رہا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تمام اقوام میں اور ہر زمانہ میں ایت بینت موجود ہیں اور ان کا تعلق صرف مسلمانوں سے ہے۔دوسرے مذاہب نہ ایسا دعویٰ کر سکتے ہیں اور نہ اسے ثابت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔پانچویں غرض تعمیر کعبہ سے یہ بتائی گئی تھی۔مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ اور یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اس ابراہیمی مقام کے ذریعہ سے عشاق الہی کی ایک ایسی جماعت پیدا کی جاتی رہے گی جو تمام دنیوی علائق سے منہ موڑ کر خدا کی رضاء پر اپنی تمام خواہشات کو قربان کر کے مقام فنا کو حاصل کرنے والی ہوگی۔سوچا جائے تو ایٹ بینت کے نتیجہ میں ہی مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ کا حصول ممکن ہوتا ہے ورنہ نہیں۔یہ ايت بينت اور مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ “ کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔تو چونکہ امت محمدیہ میں ایت بيّنت کا ایک سمندر ہمیشہ موجزن رہتا ہے اس لئے امت محمدیہ میں ممکن ہو گیا ہزاروں لاکھوں ایسے بزرگوں کا پایا جانا کہ جو مقامِ ابراہیم کو حاصل کرنے والے ہوں دراصل مقامِ ابراہیم مقام محمد یت کا ظل ہے۔عین اس مقام تک پہنچ جانا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے یہ تو ممکن نہیں لیکن اس کے بعد جو دوسرا مقام ہے وہ مقام ابراہیم ہے۔ایک ظل کی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان این بینت سے حصہ لیا ہے۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرے ماننے والوں میں ایسے لوگ کثرت سے پیدا ہوں گے جو فنا کے اس مقام کو حاصل کرنے والے ہوں گے۔یہ مقام فنا کیا چیز ہے؟ اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔ایک مقام محبت ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کامل متبعین کو قائم کیا جاتا ہے