خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 676 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 676

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۷۶ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء پہنچا یہ ترقیات غیر متناہیہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایک کمال نورانیت کا انہیں حاصل ہوگا، پھر دوسرا کمال نظر آئے گا اس کو دیکھ کر پہلے کمال کو ناقص پائیں گے پس کمال ثانی کے حصول کے لئے التجا کریں گے اور جب وہ حاصل ہو گا تو ایک تیسرا مرتبہ کمال کا ان پر ظاہر ہو گا پھر اس کو دیکھ کر پہلے کمالات کو بیچ سمجھیں گے اور اس کی خواہش کریں گے۔یہی ترقیات کی خواہش ہے جو آسیہ کے لفظ سے سمجھی جاتی ہے۔غرض اسی طرح غیر متناہی سلسلہ ترقیات کا چلا جائے گا۔تنزل کبھی نہیں ہو گا۔تو قرآن کریم نے ایسا دعویٰ بھی کیا ، قرآن کریم نے ایسا کر کے بھی دکھایا یعنی ہزاروں لاکھوں مقدس بندے خدا تعالیٰ کے اسلام میں ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے اسلام سے نور حاصل کر کے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے روشنی حاصل کر کے ، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے عشق سے ایک چنگاری لے کر ایسا نور حاصل کیا کہ وہ اس دنیا میں غیر متناہی ترقیات کے حامل ہوئے اور جو انہیں اُخروی زندگی میں ملے گا جس کا وعدہ ان سے کیا گیا ہے اس کا تو ہم تصور بھی نہیں کر سکتے جیسا کہ احادیث میں بیان ہوا ہے کہ وہ ایسی عجیب نعمتیں ہیں کہ ان کا تصور بھی انسان یہاں نہیں کر سکتا۔ہدایت کے چوتھے معنی جیسا کہ میں نے بتایا تھا۔انجام بخیر ہونے کے ہیں یعنی جنت کے مل جانے کے اور مقصد حیات کے حصول کے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أُولَبِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِم وَ أُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (البقرة: 1 ) کہ وہ لوگ جو قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہیں اس پر وہ مضبوطی سے قائم ہیں اور ان کے رب کی ربوبیت کا ملہ نے جس کامل ہدایت کو نازل کیا وہ اس ہدایت کے اوپر قائم ہیں۔وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔فلاح کا لفظ عربی زبان میں کامل کامیابی کو کہتے ہیں کہ جس کے مقابلہ میں کوئی کامیابی کامیابی نہیں رہتی جس میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ ہو جس میں کسی قسم کی کوئی خامی نہ ہو جو بھر پور کامیابی ہو۔تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ جو لوگ اپنے رب کی (جو انسان کی ربوبیت کرتا ہوا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایک خاص بلند مقام پر ان کو لے آیا اور کامل استعداد میں اور کامل صلاحیتیں ان کو عطا ق