خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 675
خطبات ناصر جلد اول ۶۷۵ خطبہ جمعہ ۵ رمئی ۱۹۶۷ء سے پیار کرنے والوں پر کھولتا ہوں چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۚ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ - (التحريم : ٩) اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام کی اتباع اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کے نتیجہ میں اس دنیا میں نور عطا ہوتا ہے ، وہ نور جس طرح اس دنیا میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہتا ہے اور ان کی رہنمائی کرتا ہے اور روحانی راہوں کو ان پر روشن کرتا رہتا ہے اسی طرح دوسری دنیا میں بھی یہ نور مومن سے جدا نہیں ہوگا اور یہ نہ سمجھ لینا کہ قرآن کریم کی کامل اتباع کے نتیجہ میں صرف اس دنیا میں غیر محد و درحمتوں کے دروازے کھلتے ہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی ان رحمتوں پر کوئی حد بندی نہیں لگائی جاسکتی۔اس وقت بھی رحمتوں کے یہ دروازے کھلے رہیں گے کیونکہ دوسری جگہ فرمایا ہے کہ جو اس دنیا میں اندھا ہوگا وہ اس دنیا میں بھی بینائی کے بغیر ہو گا۔یہاں اس کے مقابل یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ جو اس دنیا میں روشنی اور نور رکھتا ہو گا وہ نور اس دنیا میں بھی اس کے ساتھ جائے گا اور یہ نہیں کہ اس دنیا میں روحانی ترقی کے دروازے تو ایسے شخص پر کھلے رہیں گے اور وہاں جا کے صرف فصل کٹنے کے بعد جو اس کے پھلوں کے کھانے کا وقت ہوتا ہے۔وہی وقت ہوگا پھر اور مزید ترقی اسے نہیں ملے گی۔جو پہلے اس نے حاصل کر لی ان نعمتوں سے صرف وہی حظ اور سرور حاصل کرتا رہے گا۔یہ بات نہیں بلکہ مرنے کے بعد بھی اللہ تعالیٰ نے انسانی روح کے لئے ایسے سامان پیدا کر دئے ہیں کہ جونو ر وہ قرآن کریم کی متابعت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل اس دنیا میں حاصل کرتا ہے۔وہ اس کے ساتھ جائے گا۔اور اللہ تعالیٰ وہاں بھی اس کی ترقیات کے دروازے کھولتا رہے گا اور اس کی راہوں کو روشن کرتا چلا جائے گا اور کہیں بھی اس راہ نے ختم نہیں ہونا۔کیونکہ بندے اور خدا کے درمیان جو فاصلے ہیں ان کی انتہاء نہیں۔پس بندے اور خدا کے درمیان جو مقامات قرب ہیں ان کی حد بندی اور تعین کیسے کی جاسکتی ہے؟ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں یہ جو فرمایا کہ وہ ہمیشہ یہی کہتے رہیں گے کہ ہمارے نور کو کمال تک