خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 673 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 673

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۷۳ خطبه جمعه ۵ رمئی ۱۹۶۷ء پڑا ہے اس مضمون سے کہ وہ تمام جہانوں اور تمام زمانوں کے لئے ہے۔یہ صرف ایک دعوی نہیں بلکہ ایک ناقابل تردید صداقت ہے جس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ میں سنیے۔حضور فرماتے ہیں:۔جس قدر معارف عالیہ دین اور اس کی پاک صداقتیں ہیں اور جس قدر نکات و لطائف علم الہی ہیں جن کی اس دنیا میں تکمیل نفس کے لئے ضرورت ہے۔ایسا ہی جس قدر نفس اتارہ کی بیماریاں اور اس کے جذبات اور اس کی دوری یا دائمی آفات ہیں یا جو کچھ ان کا علاج اور اصلاح کی تدبیریں ہیں اور جس قدر تزکیہ و تصفیہ نفس کے طریق ہیں اور جس قدر اخلاق فاضلہ کے انتہائی ظہور کی علامات و خواص ولوازم ہیں یہ سب کچھ باستیفا ئے تام فرقان مجید میں بھرا ہوا ہے اور کوئی شخص ایسی صداقت یا ایسا نکتہ الہیہ یا ایسا طریق وصول الی اللہ یا کوئی ایسا نادر یا پاک طور مجاہدہ و پرستش الہی کا نکال نہیں سکتا جو اس پاک کلام میں درج نہ ہو۔اس کی تفصیل آگے حضور نے بیان فرمائی ہے۔پس قرآن کریم کا ہی یہ دعوی ہے کہ انسانی نفس کو روحانی کمالات تک پہنچانے کے لئے جس جس ہدایت اور صداقت کی ضرورت تھی وہ سب میرے اندر پائی جاتی ہے، اگر تم میری اتباع کرو گے تو روحانی بیماریوں سے محفوظ ہو جاؤ گے اور روحانی ترقیات کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے اور تم اپنے نفس کا کمال حاصل کر لو گے۔اور ہر وہ شریعت جس کا یہ دعویٰ ہو عقلاً اس کا یہ دعویٰ بھی ہونا چاہیے کہ غیر متناہی رفعتوں کے دروازے میں تم پر کھول رہا ہوں اور قرآن کریم نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کیونکہ قرآن کریم کے شروع میں ہی کہا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ (البقرة : ۳) کہ کوئی تقوی کے کسی بلند اور ارفع مقام تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے قرآن کریم اس پر تقویٰ کی مزید راہیں کھولتا ہے۔پھر وہ آگے جاتا ہے پھر وہ مزید بلندیوں کو حاصل کرتا ہے پھر اس سے بھی بلند تر روحانی رفعتیں اس کے سامنے آتی ہیں۔پھر وہاں تک پہنچنے کی خواہش اس کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور قرآن کریم اس کی انگلی پکڑتا ہے اور کہتا ہے تم میری اتباع کرو میں تمہیں ان مزید رفعتوں تک بھی لے جاؤں گا اسی طرح یہ سلسلہ چلا جاتا ہے اور اس کی انتہا نہیں۔