خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 656
خطبات ناصر جلد اول میں فرمایا کہ خطبہ جمعہ ۱/۲۱ پریل ۱۹۶۷ء يَايُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَا مِنُوا خَيْرًا لَكُمْ۔(النساء : ۱۷۱) اے تمام بنی نوع انسان سنو کہ ایک کامل رسول کامل صداقت لے کر تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس پہنچ چکا ہے۔تمہارا رب جس نے تمہیں ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا تھا نشوونما اور ارتقاء کے مختلف مدارج میں سے تمہیں گزارتا ہوا وہ اس مقام پر تمہیں لے آیا ہے کہ اپنی کامل جنتوں میں تمہیں داخل کرے۔سن لو کہ یہ رسول آگیا فَا مِنُوا جو وہ کہتا ہے اس پر ایمان لا و زبان سے بھی ، دل سے بھی اور اپنے جوارح سے بھی تم اسے مانو اور اس کی تعلیم پر عمل کرو۔اگر تم اس کامل رسول پر ایمان لاؤ گے اور جو اکمل شریعت ہے اس کے مطابق تم اپنی زندگیاں گزارو گے تو تم خیر امت بن جاؤ گے اور جب تم خیر امت بنو گے اور صرف اس وقت جب تم خیر امت بنو گے تو تم اس قابل ہو گے کہ تمام بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکو تمہارے ذریعہ سے تمام اقوام اور ہر زمانہ کے لوگ دینی اور دنیوی فوائد حاصل کریں گے جب تک تم اس مقام کو نہیں پاتے ساری دنیا اور دنیا کے ہر حصہ میں بسنے والی اقوام تم سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتیں اور جب تک تم سے ساری اقوام عالم فائدہ نہ اٹھا سکیں اس وقت تک نہیں کہا جاسکے گا کہ تم کو ( أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ) تمام دنیا کی بھلائی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور جب تک تمہارے متعلق یہ نہیں کہا جاسکے گا کہ تمہیں تمام دنیا کی بھلائی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس وقت تک وہ وعدہ نہیں پورا ہوگا کہ اِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ اس واسطے امنوا تم اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے قرآنی شریعت پر ایمان لاؤ۔اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالو۔تم خیر امت بن جاؤ گے۔پس نزول قرآن کے ذریعہ وُضِعَ لِلنَّاسِ “ کا مقصد حاصل ہوا اللہ تعالیٰ سورہ آل عمران میں فرماتا ہے کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَوْ أَمَنَ اَهْلُ الْكِتَب لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ - (ال عمران : ١١١) اس آیت میں دراصل یہ دعوی کیا گیا ہے کہ ابراہیمی پیشگوئی اور وعدہ کے مطابق امت محمدیہ