خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 608 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 608

خطبات ناصر جلد اوّل ۶۰۸ خطبہ جمعہ ۱۰ مارچ ۱۹۶۷ء اور دنیا کی طرف پیٹھ پھیر کر اپنے پورے زور کے ساتھ اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس طرف دوڑ نے نہ لگ جائیں جس طرف سے کہ خدا کی آواز آرہی ہو تو ایسی مائیں بدی کا نمونہ قائم کرنے والی ہیں اور ان کو بھی دو ہرا عذاب ملے گا اور اس طرح اگر وہ اپنے گھروں کے ماحول کو اس قدر حسین بنائیں گی اسلام کی روشنی اور قرآن کریم کے نور کے ذریعہ کہ جو بچے وہاں پرورش پائیں گے ان کے دل کچھ اس طرح خدا اور اس کے رسول کی محبت میں محو ہوں گے کہ دنیا کی طرف ان کی نگاہ بھی نہیں اُٹھے گی تو الہی وعدہ کے مطابق ایسی مسلمان عورت کو دو گنا ثواب ملے گا۔تو جیسا کہ میں نے گذشتہ جمعہ میں مختصر بیان کیا تھا کہ ایک اہم مضمون کی طرف اللہ تعالیٰ نے میری توجہ کو پھیرا ہے بطور تمہید کے میں نے یہ دو خطبے دیئے ہیں اور ان خطبوں میں میں نے کوشش کی ہے کہ میں اپنی بہنوں پر اس بات کی اچھی طرح وضاحت کردوں کہ بڑی اہم ذمہ داریاں ان کے کندھوں پر عائد ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے ذریعہ اگر نبی اُمت میں زندہ موجود ہو یا اس کے خلفاء کے ذریعہ اگر نبی کے وصال کے بعد قدرت ثانیہ کا دور شروع ہو چکا ہو۔جب کسی ذمہ داری یا ذمہ داریوں کی طرف جماعت کے مردوں اور ان کی عورتوں کو متوجہ کرے تو ان کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ خدا کی رضا کے حصول کے لئے اس کے رسول یا اس کے خلیفہ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ایسی قربانیاں دنیا کے سامنے پیش کریں جو بے نظیر ہوں اور دنیا کو حیرت میں ڈالنے والی ہوں اور دنیا یہ سمجھنے پر مجبور ہو جائے کہ عام عورتیں تو اور بھی بستی ہیں اس دنیا میں مگر ان کا ان کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں وہ تو ایسی عورتیں ہیں (احمدی مستورات اور احمدی بہنوں کے سوا) کہ جو حیات دنیا میں کھوئی گئی ہیں اور زینت دنیا کو ہی انہوں نے سب کچھ سمجھ لیا ہے اور یہاں وہ ہیں کہ جو خدا اور اس کے رسول کے مقابلہ میں دنیا کے آرام اور دنیا کی آسائشیں اور دنیا کے فاخرانہ لباس اور دنیا کے قیمتی زیورات اور دنیا کے چمکتے ہوئے ہیرے اور جواہرات کی کوئی پرواہ نہیں کرتیں بلکہ خدا اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کے نام کو بلند کرنے کے لئے اور اس کی عظمت اور جلال کو قائم کرنے کے لئے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت دلوں میں گاڑنے کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہو جاتی ہیں۔خصوصاً تربیت اولاد کی