خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 607 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 607

خطبات ناصر جلد اول ۶۰۷ خطبه جمعه ۱۰/ مارچ ۱۹۶۷ء النُّطْفَةِ الشَّرِيفَةِ فَإِنَّ الطَّيِّبَاتِ لِلطَّيِّبِينَ - یعنی مسلمانوں کے دل رحم کی طرح ہیں روحانی لحاظ سے اور دلوں کے اس رحم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک ربانی روحانیت کا نطفہ داخل ہوتا ہے اور وہاں سے ایک روحانی بچہ پیدا ہوتا ہے تب وہ پکے مسلمان بنتے ہیں۔تو مردوں کو بھی جیسا کہ میں نے شروع میں اشارہ کیا تھا ان آیات سے سبق لینا چاہیے اور یا د رکھنا چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب ہرگز ہرگز حاصل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ روحانی طور پر اس اختیار کے ملنے کے بعد جو ان آیات میں دیا گیا ہے آپ کی طرف منسوب ہونے والی حیات دنیا اور اس کی زینت پر خدا اور اس کے رسول کی رضا اور اس کی محبت کو مقدم نہ رکھیں۔اگر وہ حیات دنیا اور اس کی زینت میں محو ہو گئے اس میں رغبت انہوں نے کی اور اس سے محبت کی اور اپنے تمام دل اور تمام توجہ اور تمام محبت کے ساتھ وہ دنیا ہی کے ہو گئے اگر انہوں نے اپنے اموال کو ، اگر انہوں نے دنیوی سامانوں کو ، اگر انہوں نے اس دنیوی زندگی کے اوقات کو ، اگر انہوں نے دنیوی محبتوں کو ، اگر انہوں نے دنیوی تعلقات کو خدا اور اس کے رسول پر قربان نہ کیا تو وہ یقیناً خدا اور اس کے رسول کی محبت اور قرب اور صحبت کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔ان آیات میں جہاں یہ بیان ہوا ہے کہ ازواج مطہرات ایک ایسے مقام پر ہیں کہ دنیا نے ان کی نقل کرنی ہے اگر وہ نیک نمونہ پیش نہیں کریں گی تو ان کو دگنا عذاب دیا جائے گا اگر وہ نیک نمونہ پیش کریں گی تو ان کو مرتين جزا دی جائے گی۔وہاں بڑی وضاحت کے ساتھ یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ وہ دوسری عورتیں جن کا تعلق امت محمدیہ سے ہے اگر وہ حیات دنیا اور اس کی زینت پر دین کو قربان کر دیں گی اور خدا کی رضا کے حصول کی طرف متوجہ نہیں ہوں گی بلکہ دنیا کے عیش اور اس کے آرام میں پڑ جائیں گی تو ان کو بھی سزا دی جائے گی گو وہ سز ا مرنا ہو گی لیکن سزا ان کو ضرور دی جائے گی چھوڑا نہیں جائے گا ان کو پھر ان آیات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے اگر مسلمان عورت اپنے گھر کا ماحول ایسا نہیں بنائے گی کہ اس ماحول میں تربیت پانے والے بچے خدا کی آواز کو سننے کے بعد دنیا کی کسی آواز پر کان نہ دھریں