خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 591
خطبات ناصر جلد اول ۵۹۱ خطبہ جمعہ ۲۴ فروری ۱۹۶۷ء دور حاضر کا انسان بڑا مغرور ہو گیا ہے اور جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس کو عطا کی تھیں اس علم اور فراست کے نتیجہ میں جو آسمان سے ہی آتا ہے اسے وہ اپنی بھلائی کے لئے اور بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے خرچ کرنے کی بجائے اس پر اترانے لگا اور مغرور ہو گیا ہے اس حد تک کہ اسے یہ بھی پسند نہیں کہ اس کے لئے اس کا خدا فیصلہ کرے۔وہ چاہتا ہے کہ خود اپنے ہاتھ سے ہی اپنے فیصلے کرے۔اگر وہ اپنے رب کے فیصلے پر راضی ہو جا تا تو آج اس تباہی کی طرف درجہ بدرجہ اس کی حرکت نہ ہوتی جس تباہی کی طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ جا رہا ہے۔پس اس انسان کو جسے اللہ تعالیٰ نے طاقت دی اور اپنی عطا سے نوازا اور جس کی آواز اور جس کے فیصلے میں اثر رکھا اور جس کا صحیح فیصلہ بنی نوع انسان کو ترقی کی راہوں پر لے جاسکتا ہے لیکن جس کا غلط فیصلہ تمام بنی نوع انسان کے لئے ہلاکت کا خطرہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔وہ خود فیصلے کرنا چاہتا ہے اپنے رب کا فیصلہ اسے منظور نہیں کیونکہ اگر اسے اپنے رب کا فیصلہ منظور ہوتا تو آج وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے آ جمع ہوتا جو رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ کا جھنڈا ہے اور جہاں جمع ہو کر وہ اس فیصلے کی طرف کان دھرتا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے حالات میں دیا تو ہلاکت اس کے سامنے منڈلا نہ رہی ہوتی بلکہ امن کے ساتھ سب مسائل کا حل ہو جاتا۔دوسری طرف وہ خود کو بے بس اور لا چار بھی پاتا ہے اور عطاء الہی کو اپنی ہلاکت کے لئے استعمال کرنے پر تلا ہوا ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا کروں اور کس طرح فیصلہ کروں کہ عالمگیر تباہی سے خود بھی بچوں اور بنی نوع انسان کو بھی بچالوں۔پس خدائی فیصلے کی طرف کان دھرنے کے لئے تیار نہیں خود کو صحیح فیصلے تک پہنچنے کے وہ قابل نہیں پاتا ہلاکت اس کے سامنے ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل آسمان سے نازل نہ ہو تو اس وقت انسانیت اس قسم کے خطرات۔سے گھری ہوئی ہے کہ اس قسم کے خطرات میں آج سے پہلے وہ کبھی نہ گھری تھی۔پس ضرورت ہے انسان کو ایک ایسی جماعت اور ایک ایسے الہی سلسلہ کی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود کو اور آپ کے اعمال کو اور آپ کی زندگی کو اپنے لئے بطور نمونہ کے بنائے اور