خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 566 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 566

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۱۳ / جنوری ۱۹۶۷ء ویسے تو ہر وقت ہی مومن کا یہ فرض ہے کہ اس ماحول کو پیدا کرے۔لیکن اس بابرکت اجتماع کے موقع پر خاص توجہ ہمیں اس طرف دینی چاہیے کہ اگر کسی کی جیب سے ایک لاکھ، دس لاکھ کروڑ روپیہ بھی گر جاتا ہے۔تو ایک ایک پائی اور ایک ایک پیسہ اسے واپس مل جائے اور کسی شخص کے دل میں شیطان یہ وسوسہ نہ ڈالے کہ شیطان تیرا رزاق ہے خدا تیرا رزاق نہیں موقع ہے شیطان کی بات مان اور اس مال پر قبضہ کر لے ، بلکہ ہر احمدی اس مقام پر کھڑا ہو کہ رزق دینا خدا کا کام ہے اور اگر ہم ناجائز ذرائع سے رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتے اور اس میں کامیاب بھی ہو جاتے ہیں تب بھی اس خدا میں طاقت ہے کہ اس رزق کو بھی ہم سے چھین لے اور اس کے علاوہ جو جائز طور پر ہم نے کمایا ہوا ہے اس کو بھی بطور سزا کے ہم سے واپس لے لے۔پس ہم تو خدائے رزاق کو ماننے والے ہیں ہم اس گلی کی پرستش نہیں کرتے جس گلی میں ہمارا کوئی مہمان غلطی سے اپنا بٹوا پھینک جاتا ہے اور اس میں دس یا میں ہزار روپیہ ہوتا ہے۔ہم اس دیوار کے پرستار نہیں ہیں جس پر ہمارا ایک بھائی وضو کرتے وقت اپنی گھڑی یا کوئی اور چیز رکھ دیتا ہے۔ہم ان مقامات کی پرستش نہیں کرتے جہاں نماز کے وقت جو تیاں اُتار کر رکھی جاتی ہیں۔ہم تو اپنے خدا کی پرستش کرنے والے ہیں جو جب چاہتا ہے دیتا ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جتنا چاہتا ہے دیتا ہے اور اس کے بہت سے ایسے بندے بھی ہیں جنہیں وہ اس دنیا میں بھی بغیر حساب کے دیتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ دیتا ہے تو بندہ آرام بھی پاتا ہے اور سرور بھی حاصل کرتا ہے اور لذت بھی حاصل کر رہا ہوتا ہے وہ خدا کی شان کو دیکھ رہا ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں کس طرح یہ دنیوی سامان ہیں اور کس طرح وہ ان کو تقسیم کرتا ہے اور کس طرح جب وہ رحم کرنے پر آتا ہے تو اتنا رحم کرتا ہے اتتارحم کرتا ہے کہ اس کا بندہ شکر کے جذبات تلے دب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو کچھ بھی نہیں تھا دیکھو میرا خدا کتنا رحم کرنے والا ، کتنا رزق دینے والا ، کتنا خیال رکھنے والا اور دنیا کے اموال میں بھی روحانی سرور اور روحانی لذت پیدا کرنے والا ہے۔تو اس اجتماع کے موقع پر خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ ہمارے کسی بھائی کی خواہ وہ باہر سے آیا ہو یا یہاں کا رہنے والا ہو کوئی چیز ضائع نہ ہو اس کا کسی قسم کا کوئی نقصان نہ ہو۔