خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 560
خطبات ناصر جلد اول ۵۶۰ خطبہ جمعہ ۱۳ / جنوری ۱۹۶۷ء کثرت سے دوست آتے ہیں اور جلسہ میں شامل ہوتے ہیں۔لیکن اس وقت میں ان دیہاتی جماعتوں کو مخاطب کر رہا ہوں جہاں سے بہت کم احمدی جلسہ میں شامل ہوتے ہیں اور میں ان کی تو جہان کے ضلع کے امیر اور ان کے ضلع کے مربی کی وساطت سے اس طرف پھیرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس غفلت اور سستی کو ترک کر دیں اور جو جلسہ اب آ رہا ہے۔اس میں شامل ہونے کی نیت بھی کریں اور تیاری بھی کریں اور دعائیں بھی کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق عطا کرے کہ وہ اس جلسہ میں شامل ہوں اور ان فیوض اور برکات سے حصہ لیں جن فیوض اور برکات کی دعائیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیں۔جن فیوض و برکات کے وعدے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیئے۔اس کے بعد میں ربوہ کے دوستوں سے بھی کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں۔باہر سے آنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہیں۔باہر سے آنے والے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ہونے کی وجہ سے ہمارے بڑے ہی باعزت اور قابل صد احترام مہمان ہیں۔ان کی عزت کا ان کے احترام کا خیال رکھنا اور ان کے آرام کا خیال رکھنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ایک طرف اس کی ذمہ داری جلسہ سالانہ کے انتظام پر ہے کہ وہ جس حد تک ممکن ہو سکے اچھا اور ستھرا کھانا تیار کریں۔جس حد تک ممکن ہو سکے نہایت عزت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لنگر کا پکا ہوا کھانا پیش کریں اور کھلائیں اور جس حد تک ممکن ہے ان کی تکالیف کا خیال رکھیں۔کسی قسم کی کوئی تکلیف جسمانی یا ذ ہنی انہیں پہنچنے نہ دیں۔دوسری طرف تمام اہلِ ربوہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان دنوں میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ ربوہ کا ماحول ظاہری طور پر بھی اور باطنی لحاظ سے بھی ہر طرح پاک صاف اور ستھرا ر ہے۔گھروں میں گند نہ ہو، گھروں سے باہر گند نہ پھینکا جائے ،سڑکوں اور گلیوں کو صاف رکھا جائے، باطنی طہارت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں کی جائیں کہ وہ اہل ربوہ کو اس بلند اور ارفع مقام پر قائم رکھے۔جس بلند اور ارفع مقام پر باہر سے آنے والے دوست انہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔