خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 34
خطبات ناصر جلد اوّل ۳۴ خطبہ جمعہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۶۵ء محض منسوب ہو جانا کافی نہیں ہے جب تک کہ دلوں کے اندر وہ پاک تبدیلی پیدا نہ ہو جو پاک تبدیلی کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں دیکھنا چاہتا ہے۔دوسرے من کے معنی قطع کرنے کے ہیں یعنی ان پر مختلف پابندیاں لگا کر یا ظلم سے یا جبر کر کے یا دباؤ ڈال کر ان کے لئے ایسا ماحول پیدا نہ کرو کہ وہ اپنے کو مجبور پا کر ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہو جائیں حالانکہ ان کے دلوں میں اسلام داخل نہ ہوا ہو۔پھر فرما یا ولريكَ فَاصْبِرُ یعنی اس بات سے مت ڈرو کہ مخالف اپنی مخالفت سے ہمیں ایذا پہنچارہے ہیں کیونکہ تمہیں اپنے رب کی خوشنودی کے لئے ہر حالت میں صبر کرنا پڑے گا۔اس میں شروع دن سے ہی مسلمانوں کو ایک بشارت دی گئی تھی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے ایسے سامان پیدا کرے گا کہ باوجود اس وقت انتہائی کمزور ہونے کے تم فاتح ہو جاؤ گے اور بدلہ لینے پر اور انتقام لینے پر اور اگر تم صراط مستقیم سے ہٹ جاؤ تو ظلم کرنے پر بھی قادر ہو جاؤ گے لیکن ہم تمہیں نصیحت کرتے ہیں کہ تمہیں ظلم کرنا کسی صورت میں روانہیں۔بلکہ قدرت رکھتے ہوئے بھی مخالف کی ایذا دہی پر تمہیں صبر سے کام لینا ہوگا۔یہ عام معنی ہیں ان آیات کے الیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے میرے دل میں یہ ڈالا گیا ہے کہ میں جماعت کو یہ بتاؤں کہ آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں اس مقام کا ان آیات کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔یعنی ان آیات میں ایک نہایت اہم نصیحت ہے جو ہمیں کی گئی ہے اور ہمارے لئے کچھ پیشگوئیاں ہیں جن کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔اس لحاظ سے ان آیات میں خدا تعالیٰ ہمیں مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اے جماعت احمد یہ ! جس کی تخم ریزی اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ سے کی تھی جس کے استحکام کے لئے خلافت اُولیٰ کو کھڑا کیا گیا تھا جس کی تربیت کے لئے حضرت مصلح موعود کی زندگی کا ہر لحہ اور آپ کے خون کا ہر قطرہ وقف رہا۔اب تم المدثر کی حیثیت اختیار کر چکے ہو۔تم اپنی بلوغت کو پہنچ چکے ہو اور تقویٰ کے جن لباسوں کی ضرورت تھی۔وہ تمہیں مہیا کر دیئے گئے ہیں۔پس تمہیں بالغ نظری اور بالغ عملی سے کام لینا ہوگا۔اس حالت میں کہ ہم نے تمہیں اپنی رحمت اور اپنے فضل سے تربیت کے اس مقام