خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 448
خطبات ناصر جلد اوّل ۴۴۸ خطبه جمعه ۲۸ /اکتوبر ۱۹۶۶ء دینے والوں کی۔أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا یہ وہ مجاہد ہیں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ اعلان کرتا ہے کہ یہ حقیقی مومن ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے لئے مغفرت اور رزق کریم مہیا کرے گا۔واقفین زندگی بھی تحریک جدید کے ایک مطالبہ کے ماتحت مانگے گئے تھے اور یہ مطالبہ بھی ایک شکل ہے مجاہدہ کی۔کیونکہ ہر وہ کام (جیسا کہ پہلی آیات سے واضح ہوتا ہے ) جو خدا کی رضاء کی خاطر اور اس کے قرب کے حصول کے لئے کیا جائے اور جس کے کرنے میں انسان اپنی پوری توجہ اور پوری طاقت اور پوری قوت صرف کر رہا ہے اور اس سے جو کچھ بن آئے کر گزرے۔اسے خدا تعالیٰ مجاہدہ کے نام سے پکارتا ہے۔تو قرآن کریم کی ایک آیت بڑی وضاحت سے بتا رہی ہے کہ وقف زندگی بھی مجاہدہ کی ایک قسم ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت ۲۷۴ میں فرمایا کہ ہمارے احکام کے مطابق عمل کر کے اُمت محمدیہ میں کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جنہیں دین کی خدمت میں لگایا گیا ہو گا اور مشاغل دنیا سے انہیں روک دیا گیا ہوگا۔(اُحُصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ) تو بتایا کہ ان کو تمام ان مشاغل سے روک دیا جائے گا کہ جو سبیل اللہ کے مشاغل نہیں ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضاء کی راہوں کے علاوہ دنیا کمانے اور دنیا کی عزت حاصل کرنے کے تمام راستے ان پر بند کر دیئے جائیں گے۔تو جن لوگوں پر اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللہ کا اطلاق ہوتا ہے وہ بھی مجاہدین ہیں۔ایک قسم کا مجاہدہ اور جہاد کر نے والے ہیں۔اس آیت کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ وہ لوگ جن پر دشمن، مخالف ، منکر دنیا کی راہیں بند کر دیتا ہے۔آئے دن ہمارے سامنے ایسی مثالیں آتی رہتی ہیں کہ بعض لوگ بعض احمد یوں کو صرف احمدیت کی وجہ سے نوکری نہیں دیتے یا امتحانوں میں اچھے نمبر نہیں دیتے کہ وہ ترقی نہ کر جائیں۔یا اگر تاجر ہیں تو ان کی تجارت میں روک ڈالتے ہیں۔اگر زمیندار ہیں تو طرح طرح سے ان کو تنگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خصوصاً جہاں نئے احمدی ہوں اور تعداد میں بھی تھوڑے ہوں وہاں