خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 411
خطبات ناصر جلد اول ۴۱۱ خطبه جمعه ۲۳ / ستمبر ۱۹۶۶ء وہاں ایک طرح سے جماعت موجود ہے لیکن تنظیم قائم نہیں ہوئی۔صرف ضلع منٹگمری کے متعلق ایک دوست نے مجھے لکھا کہ چالیس ایسے چک ہیں جہاں احمدی افراد موجود ہیں لیکن وہاں تنظیم قائم نہیں ہوئی۔منظم جماعتیں ان کے علاوہ ہیں۔غرض اگر ڈیڑھ ہزار جماعتیں بھی فرض کر لی جائیں۔یعنی منظم جماعتوں کے علاوہ ان جگہوں، مقامات ، دیہات ، قصبات اور شہروں کو بھی شمار کر لیا جائے۔جہاں احمدی افراد موجود ہیں تو مغربی پاکستان میں ڈیڑھ ہزار کے قریب جماعتیں ہیں اور ان کی تربیت کے لئے ہمارے پاس ساٹھ ستر مربی ہیں۔اب آپ خود ہی سمجھ سکتے ہیں کہ یہ ساٹھ ستر مربی ان جماعتوں کی کس طرح تربیت کر سکتے ہیں اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ ہمارے یہ مربی سو فیصدی کام کرنے والے ہیں، تب بھی وہ ان جماعتوں کی تربیت نہیں کر سکتے۔یہ ان کے بس کی بات نہیں۔پھر ہمارے نظام تربیت یعنی مربیوں کے نظام میں بھی بہت سی خامیاں پائی جاتی ہیں اس کے نتیجہ میں جماعت کی تربیت والا پہلو ہمیں بھولا رہا جماعت نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی۔تربیت کے سلسلہ میں اس غفلت کا نتیجہ آج ہم بھگت رہے ہیں۔قرآن کریم کے انوار کو پھیلانے کی ذمہ داری ہمارے سپر دتھی۔ہم نے اس سے غفلت برتی اور اس کے نتیجہ میں ہماری روحانی ترقی بہت پیچھے جا پڑی۔آج مغربی پاکستان میں ہماری جماعتیں ایک ہزار نہیں پچاس ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ ہونی چاہیے تھیں لیکن جب ہم قرآن کریم سے غافل ہوئے تو قرآن کریم کی برکتیں بھی ہم سے جاتی رہیں ہم ان سے محروم ہو گئے اور ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔کیونکہ قرآن کریم کی برکتیں تو ہمیں تبھی مل سکتی ہیں۔جب ہم قرآن کریم سے غافل نہ ہوں۔ہم اسے ہر وقت اپنے سامنے رکھنے والے ہوں۔اپنی زندگی میں اسے مشعل راہ بنانے والے ہوں۔اگر ایسا ہو تو پھر قرآن کریم کی برکتیں ہمیں حاصل ہوں گی۔اگر ہم ایک چشمہ پر بیٹھے ہوں لیکن اس چشمہ کی طرف ہماری پیٹھ ہو اور ہمارا منہ ریگستان کی طرف ہو تو ہم اس چشمہ سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔چشمہ سے پانی پینے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس چشمہ کی طرف متوجہ ہوں اور اپنے برتن کو گند سے اور ہر اس چیز سے جو پانی کے سوا ہے اور وہ ہمارے لئے مفید نہیں خالی کر لیں تبھی ہم اس برتن کو پانی