خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 26 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 26

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۶ خطبہ جمعہ ۳؍دسمبر ۱۹۶۵ء ذکر جن الفاظ میں کیا ہے ان کا ترجمہ یہ ہے:۔اور میں رات دن اللہ تعالیٰ کے حضور چلاتا رہا اور کہتا رہا يَا رَبِّ مَنْ أَنْصَارِى يَارَبِّ مَنْ أَنْصارِی کہ اے میرے رب میرے انصار کون ہیں؟ مجھے مددگار دے تا کہ تیرے کام خیر و خوبی کے ساتھ چلائے جاسکیں۔پھر حضور فرماتے ہیں کہ میں گریہ وزاری کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکتا رہا۔اور دعا کرتا رہا کہ اے میرے رب ! میں تنہا ہوں اور دنیا مجھے نہیں پہچانتی اور مجھے ذلیل اور بے یارو مددگار سمجھتی ہے۔پس جب دعا کا ہاتھ پے در پے اٹھا اور آسمانوں کی فضا میری دعا سے بھر گئی تو اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو قبول کیا اور رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِینَ کی دعا نے جوش مارا اور مجھے ایک مخلص صدیق عطا فرمایا جو میرے مددگاروں کی آنکھ اور میرے مخلصین کا خلاصہ اور نچوڑ ہے۔اس کا نام اس کی نورانی صفات کی طرح نورالدین ہے۔پھر آپ نے حمامة البشری میں فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایسا اعلیٰ درجہ کا صدیق دیا جو راستباز اور جلیل القدر فاضل ہے اور باریک بین اور نکتہ رس بھی ہے اور اللہ تعالیٰ کے لئے مجاہدہ کرنے والا اور کمال اخلاص سے اس کے لئے اعلیٰ درجہ کی محبت رکھنے والا ہے کہ کوئی مُحِب ایسا نہیں جو اس سے سبقت لے گیا ہو۔گویا جیسا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان مخلصین انصار کی جماعت کا سردار بنا کر حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ مولوی نورالدین صاحب کو وحی کی کہ جا میرے اس بندہ کی مددکر۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو صفات اپنے اس مخلص ترین مرید کے اندر دیکھیں اور یہاں ان کو بیان کیا ہے وہ یہ ہیں۔وہ صدیق ہیں ان کو قدم صدق عطا کیا گیا ہے اور راستبازی اور صداقت کو انہوں نے اس مضبوطی سے پکڑا ہے کہ میرے مریدوں میں سے کوئی ان کا