خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 397 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 397

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۹۷ خطبہ جمعہ ۶ارستمبر ۱۹۶۶ء پس ہزاروں مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں جو شیطان کے وسوسہ کے نتیجہ میں شرک کے پیدا ہونے کو ثابت کرتی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر گناہ کا تعلق شیطانی وسوسہ سے ہے اور شیطان یہ وسو سے انسان کے دل اور سینہ میں پیدا کرتا ہے۔گویا تمام روحانی بیماریوں کا مصدر انسان کا سینہ یا اس کا دل ہے کیونکہ شیطانی حربوں اور حیلوں اور تدبیروں کی آماجگاہ صد را نسانی ہی ہے اور روحانی ترقیات کے لئے پہلے سینہ و دل کی صفائی اور صحت و سلامتی بہت ضروری ہے کیونکہ بیمارسینہ ودل کفر کے لئے کھل جاتا ہے اور ایمان کے لئے مقفل ہو جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے۔وَلَكِنْ مَنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ - (النحل: ۱۰۷) وہ جنہوں نے شیطانی وساوس کو قبول کر کے اپنا سینہ کفر کے لئے کھول دیا۔ان پر اللہ کا بہت بڑا غضب نازل ہوگا اور ان کے لئے بہت بھاری عذاب مقدر ہے۔تو اس آیتہ میں بتایا کہ شیطانی وسوسہ کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کا سینہ کفر کے لئے کھل جاتا ہے۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ نے قرآن مجید میں شرح کے لفظ کو اس سینہ و دل پر بھی استعمال کیا ہے جو کفر کے لئے بند ہو جاتا ہے اور جس کی کھڑکیاں خدا کی طرف کھل جاتی ہیں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ فرمایا۔فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَكِنْ تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ - (الحج: ۴۷) کیونکہ اصل بات یہ ہے۔(اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) کہ حق وصداقت اور نشانات اور آیات کے تعلق میں ظاہری آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہوتے ہیں بوجہ اس کے کہ شیطانی وسوسہ ان کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے اور روحانی شعائیں دلوں تک پہنچ نہیں سکتیں اور روحانی نور انہیں حاصل نہیں ہو سکتا۔اس لئے اس اندھے پن کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ سے دور چلے جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کریم شفاء لِمَا فِي الصُّدُورِ ہے یعنی سینہ کی تمام روحانی بیماریوں کی شفاء اس میں پائی جاتی ہے۔جو وسوسہ بھی شیطان دل میں ڈالے اسے دور کرنے کے لئے