خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 378 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 378

خطبات ناصر جلد اول ۳۷۸ خطبه جمعه ۲۶ /اگست ۱۹۶۶ء اور عبادت گزار ہو اور جو ان تقویٰ کی راہوں پر چلنے والا ہو جو اس کے لئے کھولی گئی تھیں۔مگر اگر وہ اپنے زمانہ کی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکا تو وہ ذمہ داریاں جو سارے زمانوں سے تعلق رکھتی ہیں وہ کیسے نبھا سکے گا؟ ” سارے زمانہ کی ذمہ داریاں اس لئے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر زمانہ اور ہر قوم کے لئے ہیں۔پس وہ شخص جو اپنی قوم کی ذمہ داریاں نہیں نبھا سکا تو وہ ذمہ داریاں جو ساری اقوام کی ہیں وہ کیسے نبھا سکے گا ؟ اس لئے وہ قرآن کریم کی برکات سے محروم رہ جائے گا۔اس میں امت مسلمہ کو اس طرف متوجہ کیا گیا ہے کہ وہ پیشگوئیاں جو قرآن کریم یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال میں پائی جاتی ہیں، بشارتوں کے رنگ میں ہوں یا انذار کے رنگ میں۔ان سب کو ماننا ضروری ہے۔فرمایا کہ اگر تم لوگ ان پر پختہ یقین نہیں رکھو گے۔انہیں بھول جاؤ گے، ان کی تاویلیں کرنے لگ جاؤ گے کہو گے کہ یہ تو احادیث میں غیر ثقہ لوگوں نے ملا دی ہیں اور جب وہ واقع ہو جائیں گی تب بھی تمہیں سمجھ نہ آئے گی کہ غیر ثقہ لوگوں نے زمین و آسمان کی تاریں کیسے ملا دیں اور ان کا وقوعہ کیسے ہو گیا تو یقینا تم بھی قرآنی برکات سے محروم رہو گے۔پھر اگر تم قرآن کریم کی بیان کردہ عبادت بجانہ لاؤ گے۔قرآن کریم کے طریق کے مطابق دعاؤں میں مشغول نہیں رہوگے، قرآن کریم کی شریعت کو اپنا لائحہ عمل اور دستور قرار نہیں دو گے تو تم کبھی ان برکات سے فائدہ حاصل نہیں کر سکو گے۔جن برکات کا تعلق ان لوگوں سے ہے۔جو پختہ ایمان رکھتے ہیں، دعا کر نیوالے ہیں عبادت میں مشغول رہنے والے ہیں اور جو شریعت کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالنے والے ہیں پس اگر تم کتاب مبارک اور احکام شریعت کوٹھکرا دو گے اور پیٹھوں کے پیچھے پھینک دو گے تو باوجود اس کے کہ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والے ہو گے۔خدا کے غضب اور قہر کے مورد بن جاؤ گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس بات کی توفیق بخشے کہ ہم قرآن کریم کی (جو تمام برکات کا جامع ہے) ساری کی ساری برکات سے فیض پانے والے ہوں اور یہ محض اس کے فضل سے ہی ہوگا نہ کہ ہماری کسی خوبی کے نتیجہ میں اور اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ جہاں ہم نے محض اس کی توفیق سے مسیح موعود علیہ السلام کو پہچانا ہے قرآن کریم اور احادیث نبویہ کی دیگر پیشگوئیوں کو بھی ہم اور ہماری