خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 377
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۲۶ راگست ۱۹۶۶ء ہیں عبادت کر رہے ہیں اور اپنی شریعت کو حتی المقدور قائم کئے ہوئے ہیں۔یہی لوگ ہیں يُؤْمِنُونَ به جو قرآن کریم پر ایمان لانے کی توفیق پائیں گے۔جو شخص قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتا خدا تعالیٰ اسے موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔کہ تم وہ لوگ ہو جو خود اپنی شریعت کے مطابق نہ دعا کرتے ہو اور نہ ہی عبادت کرتے ہو اور نہ ہی شریعت کے دوسرے احکام بجالاتے ہو اور نہ ہی اپنی شریعت کی حفاظت کرتے ہو۔بلکہ جو پیشگوئیاں اور بشارتیں تمہیں ملی تھیں تم ان کا انکار کر رہے ہو۔یا ان کی غلط تاویلیں کر رہے ہو، تو تم خدا تعالیٰ کے فضل کو کیسے کھینچ سکتے ہو؟ تم نے اس شریعت کی قدر نہیں کی جو تم پر نازل کی گئی تو تم اس شریعت پر کیسے ایمان لا سکتے ہو جو تمہاری قوم سے باہر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی یا تمہاری قوم میں سے ایک ایسے شخص پر نازل کی گئی جو تمہارے خیال میں خدا کے نزدیک اس قدر کے قابل نہ تھا۔جو قدر اس کی کی گئی۔اور تمہارے خیال میں یہ کتاب اس شخص پر نازل ہونی چاہیے تھی جس کے متعلق تم فیصلہ دیتے کہ وہ قوم میں بڑا دیانتدار اور ہر لحاظ سے اس قابل تھا کہ خدا کا کلام اس پر نازل ہوتا۔تو تمام اقوامِ عالم پر الزام دھرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارا قرآن کریم سے انکار کرنا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ قرآن کریم میں کوئی نقص ہے یا قرآن کریم ان خوبیوں کا مجموعہ نہیں جن خوبیوں کا مجموعہ خدا تعالیٰ اسے قرار دیتا ہے یا وہ مصدق نہیں اور تمہاری کتب کی پیشگوئیوں کے مطابق نہیں آیا۔نہیں ! بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ جو شریعت تم پر نازل کی گئی تھی تم خود اس کے پابند نہیں تھے اور نہ اس پر عمل کرتے تھے۔نہ دعا کرو، نہ عبادتیں بجالا ؤ، نہ شریعت کے دوسرے احکام پر عمل کرو، نہ ان پیشگوئیوں کو سچا سمجھو جو اللہ تعالیٰ نے خود تمہاری مسلّمہ کتابوں میں نازل فرمائی ہیں۔تو تم کیسے برکات قرآنی سے فائدہ حاصل کر سکتے ہو۔پس فرمایا کہ اگر چہ یہ ( قرآن ) مُبَارَكَ اور مصداقی ہے لیکن اس پر ایمان وہی لائے گا جو اپنی کتاب کی پیشگوئیوں پر پختہ ایمان رکھتا ہو اور اپنی شریعت کو قائم کرنے والا ہو، دعا کرنے والا