خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 351 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 351

خطبات ناصر جلد اول ۳۵۱ خطبه جمعه ۵ راگست ۱۹۶۶ء اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ وہ تعلیم القرآن کی سکیم اور عارضی وقف کی مہم میں بہت برکت ڈالے گا خطبه جمعه فرموده ۵ را گست ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔کوئی پانچ ہفتہ کی بات ہے ابھی میں ربوہ سے باہر گھوڑا گلی کی طرف نہیں گیا تھا۔ایک دن جب میری آنکھ کھلی تو میں بہت دعاؤں میں مصروف تھا۔اس وقت عالم بیداری میں میں نے دیکھا کہ جس طرح بجلی چمکتی ہے اور زمین کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک روشن کر دیتی ہے اسی طرح ایک نور ظاہر ہوا اور اس نے زمین کو ایک کنارے سے لے کر دوسرے کنارے تک ڈھانپ لیا۔پھر میں نے دیکھا کہ اس نور کا ایک حصہ جیسے جمع ہورہا ہے۔پھر اس نے الفاظ کا جامہ پہنا اور ایک پر شوکت آواز فضا میں گونجی جو اس نور سے ہی بنی ہوئی تھی اور وہ سیتھی۔66 بشری لکھ یہ ایک بڑی بشارت تھی لیکن اس کا ظاہر کرنا ضروری نہ تھا۔ہاں دل میں ایک خلش تھی اور خواہش تھی کہ جس نور کو میں نے زمین کو ڈھانپتے ہوئے دیکھا ہے۔جس نے ایک سرے سے دوسرے سرے تک زمین کو منور کر دیا ہے۔اس کی تعبیر بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے مجھے سمجھائے۔چنانچہ وہ ہمارا خدا جو بڑا ہی فضل کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اس نے خود اس کی تعبیر اس طرح سمجھائی کہ گزشتہ پیر کے دن میں ظہر کی نماز پڑ بار ہا تھا اور تیسری رکعت کے قیام