خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 343 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 343

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۴۳ خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۶۶ء اور ان راہوں کا علم اور ان پر چلنا تمہارے لئے آسان ہو جائے گا۔پس چونکہ یہ غَافِرِ الذَّنْبِ خدا کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے اس کی ہدایت کے مطابق تم ذنب اور اس کے بدنتائج سے خدا تعالیٰ کی حفاظت میں آکر اور مَغْفِرَةٌ کے ان معانی کے مطابق جو میں نے ابھی بیان کئے ہیں خدا تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کر سکو گے۔(۴) چوتھی صفت اس کتاب عظیم کی ، اس کتاب کریم اور مجید کی اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ اس خدا نے اتاری ہے جو قابلِ الثّوب ہے۔یعنی تو بہ قبول کرنے والا ہے۔پس اس کتاب میں یہ کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ تو بہ کن لوگوں کی ، کن حالات میں اور کب قبول ہوتی ہے۔اگر کوئی شخص تو بہ کرنا چاہے۔اس کے دل میں ایک خلش پیدا ہو، ایک خواہش تڑپنے لگے کہ مجھے اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔تو بہ کرنی چاہیے، تو کیا کرے۔کن راہوں سے وہ تو بہ کے دروازوں تک پہنچے اور پھر انہیں کھٹکھٹائے۔تو فرما یا کہ قرآن کریم قابلِ الثوب خدا کی طرف سے نازل شدہ کتاب ہے وہ تمہیں ان دروازوں تک لے جائے گی جو تو بہ کے دروازے ہیں۔وہ تمہیں بتائے گی کہ ان دروازوں کو تم نے کس طرح کھٹکھٹانا ہے تا کہ وہ تم پر کھولے جائیں۔پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں یہ بتایا کہ جب تمہارا دل اپنے پیدا کرنے والے کی طرف مائل ہو اور اس کی طرف جھکے لیکن تم سرگردان ہو ، نہ جانتے ہو کہ کن راہوں سے تم اس کی جناب میں پہنچ سکتے ہو تو اس کتاب کی طرف رجوع کرو اور اس سے روشنی اور ہدایت حاصل کرو تا تمہاری مراد بر آئے اور تمہارا رب تم سے راضی ہو جائے اور اس کی نظر میں تم ایسے بن جاؤ کہ کبھی تم سے گناہ سرزد ہی نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَبِكَ b يَتُوبُ اللهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا - (النساء : ١٨) اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ تو بہ کس طرح اور کن لوگوں کی اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہوتی ہے اور وہ کون لوگ ہیں کہ جن کی تو بہ ان کے منہ پر ماری جاتی ہے۔