خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 342 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 342

خطبات ناصر جلد اول گے جیسا کہ وہ تم سے راضی ہوگا۔۳۴۲ خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۶۶ء (۳) تیسری صفت یہاں قرآن کریم کی اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے کہ یہ اس ہستی کی طرف سے اتارا گیا ہے جو غَافِرِ الذُّنب (المؤمن: (۴) ہے۔گناہوں کو بخشنے والا ہے۔پس یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ان نیکیوں اور ان حسنات کے کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔جو نا سمجھی کے گناہوں اور بداعمالیوں کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جاتی ہے اور وہ طریق بتائے گئے ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسان نفس امارہ پر قابو پالیتا ہے اور میلان گناہ کو اپنے پاؤں کے نیچے کچل دینے کی قوت پاتا ہے۔مَغْفِرَةٌ کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ وہ گناہ جو سر زد ہو چکے ہوں اللہ تعالیٰ ان کے بداثرات اور اپنے غضب اور عذاب سے مغفرت چاہنے والے کو محفوظ کرے۔تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا کہ اگر تم کبھی اپنے گناہ پر پشیمان ہو اور استغفار کرو اور چاہو کہ خدا تعالیٰ تمہارے ان گناہوں کو معاف کر کے ان کے بداثرات سے تمہیں محفوظ کرے تو تمہیں ان طریق کو اختیار کرنا ہو گا جو قرآن کریم میں بتائے گئے ہیں۔دوسرے معنی مَغْفِرَةٌ کے یہ ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسی قوت انسان کو عطا کرے کہ گناہ کی طرف جو میلان اس کی طبیعت میں پایا جاتا ہو یا جو زنگ اس کی فطرتِ صحیحہ پر لگ چکا ہو وہ زنگ دور ہو جائے اور وہ میلان قابو میں آجائے اور انسان کا شیطان مسلمان ہو جائے اور گناہ کی طرف رغبت ہی باقی نہ رہے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا کہ غَافِرِ الذَّنْبِ خدا کی طرف سے یہ کتاب نازل ہوئی ہے۔پس اگر تم گنہگار ہو تو اسی کی طرف آؤ اور قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریق پر آؤ۔قرآن کریم تمہاری رہنمائی کرے گا اگر تم چاہتے ہو کہ تقویٰ کے اعلیٰ مقام کو حاصل کرو۔اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تواضع کا وہ مقام تمہیں حاصل ہو جائے جس کے بعد اللہ تعالیٰ ساتویں آسمان سے بھی اوپر انسان کو لے جاتا ہے تب بھی تم قرآن کریم کی طرف رجوع کرو۔وہ تمہیں ایک ایسی روشنی عطا کرے گا جو ان راہوں کو جو ان نتائج کی پیدا کرنے والی ہیں روشن اور منور کر دے گی