خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 341
خطبات ناصر جلد اول ۳۴۱ خطبہ جمعہ ۲۹؍جولائی ۱۹۶۶ء أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (ال عمران : ۱۱۱) تم وہ اُمت ہو جس سے بہتر اُمت اس دنیا میں پیدا نہیں کی گئی تم وہ اُمت ہو جس سے زیادہ احسان، انسان پر کسی اُمت نے نہیں کیا۔پس پہلی خوبی اس کتاب کی اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتائی کہ اپنے کمال کے باعث یہ کتاب بے مثل ہے۔اور اپنی تعلیم کی وجہ سے یہ کتاب اُمت مسلمہ کو ایک بے مثل و بے مثال اُمت بنانے کی اہلیت رکھتی ہے۔(۲) دوسری اندرونی خوبی ہمیں ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی کہ یہ وہ کتاب ہے تَنْزِيلُ الكتب مِنَ اللهِ الْعَلِيمِ۔اس ذات نے اسے اتارا ہے جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔حقائق اشیاء اور مخلوق کے غیر محدود خواص کا علم صرف اسی پاک ذات کو ہے اور صرف وہی خدا اس بات پر قادر تھا کہ فطرت انسانی کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے والی کتاب اور ہدایت نازل کرتا اور ایک ایسی شریعت انسان کو دیتا جو ہر قوم اور ہر زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والی ہوتی۔پس یہی وہ کتاب ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی اور ہدایت کی انسان کو ضرورت نہیں رہتی۔ہر زمانہ کے مسائل کو یہ سلجھا دیتی ہے۔روحانی علوم کے نہ ختم ہونے والے چشمے اس سے پھوٹتے ہیں اور مادی علوم کی بنیادی صداقتیں اور اصول اس میں جمع کر دئے گئے ہیں۔پس اگر تم روحانیت میں ترقی حاصل کرنا چاہتے ہو، یا دنیوی علوم میں فوقیت اور رفعت کے مقام تک پہنچنا چاہتے ہو تو تمہارے لئے یہ ضروری ہے کہ تم اس کتاب کی پیروی کرنے والے بنو۔اگر تم اس کتاب کی آواز کی طرف متوجہ نہ ہو گے۔اس کی وہ قدر نہیں کرو گے جو کرنی چاہیے تو نہ روحانی میدان میں تم کوئی ترقی حاصل کر سکو گے اور نہ دنیوی علوم میں دوسروں سے مقابلہ کرنے کی طاقت اپنے اندر پیدا کرسکو گے۔پس مادی اور روحانی ہر دو لحاظ سے علوم میں اگر ترقی کرنی ہے (اور علم کے لغوی معنی ایک یہ بھی ہیں کہ ایسا علم جس کے ساتھ اس کے مطابق عمل بھی ہو ) اور روحانی علوم کو حاصل کر کے میدانِ عمل میں تم نے اترنا ہے تو تمہیں اس کتاب کی ہدایت کی ضرورت ہوگی اور اگر تم اس کے علوم حاصل کر لو گے اور اس کے مطابق عمل کرو گے تو خدائے علیم جو ہر چیز کو جاننے والا ہے اور جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔وہ تمہیں اپنے قرب کے وہ مقامات عطا کرے گا جن سے تم راضی ہو جاؤ