خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 328 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 328

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۲۸ خطبہ جمعہ ۲۲؍جولائی ۱۹۶۶ء اس بات کا بھی تعلق ہے کہ وہ نیک اعمال کو بڑھاتا ہے۔اَضْعَافًا مُضْعَفَةً کر دیتا ہے۔ایک پیج کی طرح جس طرح بیج مٹی میں ڈالا جاتا ہے اور وہ بڑھتا ہے۔پھولتا ہے۔اور پھلتا ہے اور ایک دانہ سے سو، پانچ سو، سات سو تک ہو جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت رحیمیت کے ماتحت ایسا انتظام کیا ہے کہ وہ انسان کے اعمال کو بطور پیج کے ایک ایسی جگہ میں رکھتا ہے جہاں وہ اعمال بھی بڑھتے ، پھولتے اور پھلتے ہیں اور اُخروی زندگی میں کئی گنا زیادہ ہمیں اپنے اعمال کا بدلہ مل جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کے اندر یہ صفت پائی جاتی ہے کہ چونکہ یہ خدائے رحیم کی طرف سے نازل شدہ ہے۔تم جو بھی اعمال قرآن کریم کی بتائی ہوئی ہدایات کے مطابق بجالا ؤ گے وہ ضائع نہیں جائیں گے۔تمہیں ان کا اجر ملے گا اور بڑا ہی اچھا اجر ملے گا۔(۳) تیسری صفت اس کی یہ بیان فرمائی ہے کتاب فُصِّلَتْ اینه کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ جس کے احکام اور جس کی ہدایتیں مختصر اور مجمل طور پر بیان نہیں کی گئیں۔جتنا کسی چیز میں اجمال کو مد نظر رکھا جائے اتنا ہی اس کے سمجھنے کے لئے زیادہ فراست، زیادہ بیدار مغزی اور زیادہ ذہانت کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی الہامی کتاب بہت ہی مختصر ہو تو بہت سے لوگ اپنے ربّ کے حضور یہ عذر پیش کر سکتے تھے کہ اے خدا! تیرا ہدایت نامہ تو آیا مگر وہ اس قدرا جمال کے ساتھ بیان کیا گیا تھا کہ ہم اپنی ناقص سمجھ کے مطابق اس کی حقیقت کو پہنچ نہیں سکتے تھے اس لئے ہم اس کے فیض سے محروم رہے۔اللہ تعالیٰ یہاں یہ فرماتا ہے کہ اس کتاب میں جو احکام بھی بیان کئے گئے ہیں ان کو اچھی طرح کھول کر اور تفصیل کے ساتھ بیان کر دیا گیا ہے۔تفصیل سے کھول کر بیان کرنے کے اللہ تعالیٰ نے دو طریق امت محمدیہ میں جاری کئے ہیں۔۔ایک تو یہ کہ خود قرآن کریم کے الفاظ بڑے تفصیلی مضامین کے حامل ہیں۔دوسرے یہ کہ پھر بھی کوئی شخص کہہ سکتا تھا کہ ہم میں اتنی سمجھ نہ تھی کہ قرآن کریم کے عربی الفاظ