خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 321 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 321

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۲۱ خطبہ جمعہ ۱۵؍جولائی ۱۹۶۶ء فَاعْبُدِ اللہ کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس نیت سے عبادت کرو کہ جو حکم بھی نازل ہوگا۔ہم اس کو بجالائیں گے اور ہر بات جس سے روکا جائے گا ہم اس سے باز رہیں گے۔پس اللہ تعالیٰ کی عبادت خالص اطاعت کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے۔ورنہ اسلام اسے عبادت قرار ہی نہیں دیتا۔اگر لمبی لمبی نمازیں پڑھنے والا فحشاء اور منکر سے باز نہیں آتا تو اس کی نمازیں سچی نمازیں نہ ہوں گی کیونکہ سچی نماز تو فحشا ء اور منکر سے روکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ایک اور عجیب مضمون بھی بیان فرمایا ہے۔الدّین کے معنی تدبیر کے بھی ہیں۔تو فرماتا ہے۔فَاعْبُدِ اللهَ مُخْلِصًا لَهُ الدِّین کہ اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ تمہاری تمام تدابیر خالصتاً بغیر کسی ریاء اور کھوٹ کے اسی کے لئے ہوں۔اس میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ خدا تعالیٰ تدابیر سے منع نہیں کرتا۔وہ یہ نہیں کہتا کہ مال نہ کماؤ وہ یہ نہیں کہتا کہ تجارتیں نہ کرو۔وہ یہ نہیں کہتا کہ زراعت نہ کرو۔وہ یہ نہیں کہتا کہ تم وکالت کا پیشہ اختیار نہ کرو اور فیس نہ لو لیکن وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ دنیا کی جو تد بیر بھی تم کر ووہ خدا کے لئے کرو اور خدا تعالیٰ کی اطاعت کا جوا اپنی گردنوں سے نہ اُتارو پھر جب وہ یہ کہتا ہے کہ مال کماؤ تو ساتھ ہی یہ بھی حکم دیتا ہے کہ مال ان طریقوں سے کماؤ جو جائز قرار دئے گئے ہیں اور ان طریقوں سے مال نہ جمع کرو جو حرام قرار دئے گئے ہیں۔پھر جب وہ کہتا ہے کہ تم مال خرچ کرو تو ساتھ ہی وہ یہ کہتا ہے کہ اپنا مال ان طریقوں سے خرچ کرو جو جائز قرار دئے گئے ہیں اور جوطریق خدا کے نزدیک ناپسندیدہ یا مکروہ ہیں اور بڑے ہیں ان طریقوں سے خرچ نہ کرو۔پس اس چھوٹی سی آیت میں اور چند الفاظ میں بڑے وسیع معانی اور مطالب بیان فرمائے گئے ہیں بہر حال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم عبادت کرو تو اس طرح کہ تمام دنیوی تدابیر کو بھی خالصتاً بغیر کسی ریاء، بغیر کسی کھوٹ کے میرے لئے کر رہے ہو۔ایک شخص اگر رات کو تہجد کی نماز ادا کرتا ہے اور تہجد کی نماز کے بعد نماز فجر سے پہلے کہیں جا کر ڈاکہ ڈالتا ہے۔تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس کی نماز تہجد قبول ہو جائے گی !! اس کی دعائیں جو اس نے نماز تہجد میں کی تھیں وہ پوری کی جائیں گی؟؟ یہ مثال مجھے اس وجہ سے یاد آئی کہ قادیان کے قریب ایک گاؤں تھا منگل۔وہاں ایک