خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 313 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 313

خطبات ناصر جلد اوّل ۳۱۳ خطبہ جمعہ ۱۵؍جولائی ۱۹۶۶ء کی اسے ضرورت تھی کیونکہ اس کتاب کا اُتارنے والا اللہ ہے۔یعنی وہ ذات جسے اس کی بعض مخصوص صفات کے ساتھ قرآن کریم نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اور اس کی دو صفات کا ذکر اس نے اس آیت میں بھی کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی جگہ پر یہ کامل اور مکمل کتاب ہے اور اس کا اتارنے والا اللہ ہے جس کی کئی صفات ہیں لیکن ہم تمہیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ وہ العزیز بھی ہے اور لغت عربی میں عزیز اس ہستی کو کہتے ہیں جو صاحب قدرت اور صاحب قوت ہوا اور صاحب عزت ہو اور دنیا کی کوئی طاقت اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکتی ہو۔وہ اتنا قوت والا ہو کہ دنیا کی کوئی طاقت اور قوت ایسی متصور نہ کی جا سکتی ہو جو اس کی قوت اور طاقت کے مقابلہ میں کامیابی کے ساتھ اس کے برخلاف کوئی مکر اور حیلہ اور فریب کر سکے۔وہ غالب ہے مغلوب ہو ہی نہیں سکتا اور کوئی چیز اسے عاجز نہیں کر سکتی اور اپنی ان صفات میں وہ بے مثل بھی ہے۔یعنی اس کی قوت اور اس کی قدرت اور اس کا غلبہ اور اس کی عزت ایسی ہے کہ دنیا کی کسی اور ہستی کی نہ وہ قوت، نہ وہ غلبہ، نہ وہ طاقت، نہ وہ شان ، نہ وہ جاہ، نہ وہ جلال ، کچھ بھی نہیں۔اس ہستی کو عزیز کہتے ہیں۔تو اس آیت میں فرمایا کہ یہ کتاب اس اللہ نے نازل کی ہے جو اس قدر قوت اور طاقت اور عزت والا ہے کہ دنیا کا کوئی مکر اور فریب اس کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔وہ اس مضبوط اور بلند پہاڑ کی چوٹی پر بنے ہوئے قلعہ کی طرح ہے کہ جس تک چڑھنا کسی اور کے لئے ممکن ہی نہیں۔منع ہے۔یعنی وہ اتنا محفوظ ہے کہ اس کے خلاف کسی سازش کی کامیابی ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔تو ہمیں اس کتاب میں صفت عزیز کا ذکر کر کے یہ بتایا کہ اگر تم اس الکتاب پر عمل کرنے والے ہو گے۔اگر تم اس کے احکام کی اطاعت کرنے والے ہو گے تو اللہ جو عزیز ہے تمہیں عزت کے ایسے مقام پر کھڑا کرے گا کہ دنیا کی کوئی طاقت تمہارا مقابلہ نہ کر سکے گی۔اگر تمہاری ترقی کے سامنے ہمالیہ کے پہاڑ بھی حائل ہوں گے تو وہ پاش پاش کر دیئے جائیں گے۔مسلمانوں کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ بالکل بے کسی اور بے بسی کے زمانہ میں جب ان کے پاس نہ عزت تھی، نہ طاقت تھی ، نہ مال تھا اور نہ کوئی اور ظاہری سامان تھے، صرف قرآن کریم