خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 14 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 14

خطبات ناصر جلد اول ۱۴ خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۶۵ء تین روز ایسے جلسہ کے لئے مقرر کئے جائیں جس میں تمام مخلصین اگر خدا تعالیٰ چاہے بشرط صحت و فرصت و عدم موانع قویه تاریخ مقررہ پر حاضر ہوسکیں۔سو میرے خیال میں بہتر ہے کہ وہ تاریخ ۲۷ / دسمبر سے ۲۹؍ دسمبر تک قرار پائے۔یعنی آج کے دن کے بعد جو تیس دسمبر ۱۸۹۱ ء ہے۔آئندہ اگر ہماری زندگی میں ۲۷ / دسمبر کی تاریخ آ جائے تو حتی الوسع تمام دوستوں کو محض اللہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دعا میں شریک ہونے کے لئے اس تاریخ پر آجانا چاہیے اور اس جلسہ میں ایسے حقائق و معارف کے سنانے کا شغل رہے گا اور ایمان اور یقین اور معرفت کو ترقی دینے کے لئے ضروری ہیں اور نیز ان دوستوں کے لئے خاص دعا ئیں اور خاص توجہ ہوگی۔اور حتی الوسع بدرگاہ رب ارحم الرحمین کوشش کی جائے گی کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف ان کو کھینچے اور اپنے لئے قبول کرے اور پاک تبدیلی انہیں بخشے اور ایک عارضی فائدہ ان جلسوں میں یہ بھی ہوگا کہ ہر ایک نئے سال جس قدر نٹے بھائی اس جماعت میں داخل ہوں گے وہ تاریخ مقررہ پر حاضر ہو کر اپنے پہلے بھائیوں کے منہ دیکھ لیں گے اور روشناسی اور رشتہ تو ڑ دو تعارف ترقی پذیر ہوتار ہے گا اور جو بھائی اس عرصہ میں اس سرائے فانی سے انتقال کر جائے گا۔اس جلسہ میں اس کے لئے دعائے مغفرت کی جائے گی اور تمام بھائیوں کو روحانی طور پر ایک کرنے کے لئے اور ان کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اٹھا دینے کے لئے بدرگاہ حضرت عزت جل شانہ کوشش کی جائے گی۔اور اس روحانی جلسہ میں اور بھی کئی روحانی فوائد اور منافع ہوں گے جوانشاء اللہ القدیر وقتا فوقتا ظاہر ہوتے رہیں گے اور کم مقدرت احباب کے لئے مناسب ہوگا کہ پہلے ہی سے اس جلسہ میں حاضر ہونے کا فکر رکھیں۔اور اگر تد بیر اور قناعت شعاری سے تھوڑا تھوڑا سر مایہ خرچ سفر کے لئے ہر روز یا ماہ بماہ جمع کرتے جائیں اور الگ رکھتے جائیں تو بلا دقت سرمایه سفر میسر آجائے گا۔گویا یہ سفر مفت میسر ہو جائے گا اور بہتر ہوگا کہ جو صاحب احباب میں سے اس تجویز کو منظور کریں وہ مجھ کو ابھی بذریعہ اپنی تحریر خاص کے اطلاع دیں تا کہ ایک علیحدہ فہرست میں ان تمام احباب کے نام محفوظ رہیں کہ جو حتی الوسع والطاقت