خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 279 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 279

خطبات ناصر جلد اول ۲۷۹ خطبہ جمعہ ۱۰ جون ۱۹۶۶ء حقیقی نیکی وہی ہے جو محض خدا تعالیٰ کی محبت اور اس کی خوشنودی کی خاطر کی جائے خطبه جمعه فرمود ه ۱۰ جون ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور پرنور نے آیت لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَ الكتب وَالنَّبِينَ وَ أَتَى الْمَالَ عَلَى حُبّهِ ذَوِى الْقُرْبَى وَالْيَتْلَى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَ أَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّكَوةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِم إذَا عَهَدُوا وَ الصّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ أُولَيكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أولبِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ۔(البقرة : ۱۷۸) تلاوت فرمائی اور پھر فرمایا:۔سورۃ بقرہ کی اس آیت میں بہت سے وسیع مضامین بیان کئے گئے ہیں۔مجھے چونکہ کل گرمی لگ جانے کی وجہ سے ضعف کی شکایت ہے اس لئے میں بڑے اختصار کے ساتھ محض چند باتیں بیان کرنے پر اکتفا کروں گا اور ان کی طرف اپنے دوستوں اور بھائیوں کو تو جہ دلاؤں گا۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آل بد کا لفظ دو دفعہ مختلف معانی میں استعمال کیا ہے۔البز کے ایک معنی ہیں اَلطَّاعَةُ ، الصَّلَاحُ الصّدقُ -