خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 273
خطبات ناصر جلد اول ۲۷۳ خطبہ جمعہ ۲۷ مئی ۱۹۶۶ء کام وہی اچھا ہوتا ہے جس کا انجام اچھا ہو خطبه جمعه فرموده ۲۷ رمئی ۱۹۶۶ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔کام وہی اچھا ہوتا ہے جس کا انجام اچھا ہو طب اور ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کرنے والا ایک طالب علم اگر اپنی تعلیم کے زمانہ میں پہلے تین سال اول آتار ہے اور آخری سال فیل ہو جائے تو پہلے تین سالوں میں اول آنے کا اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ایک شخص جو اپنے بیمار رشتہ دار کو ملنے اپنے گاؤں سے ہیں میل دور جانا چاہتا ہے اگر ۱۸ میل کے بعد اسے کوئی ایسی مجبوری یا معذوری پیش آ جائے کہ وہ آگے نہ جا سکے تو اس کا سارا سفر ہی بے معنی اور بے نتیجہ ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ الصافات میں انسانوں کے دو گروہوں کا ذکر فرماتا ہے۔ایک وہ جو اپنی بداعمالیوں اور اپنے تکبر اور اباء اور خدا تعالیٰ کے انبیاء کے خلاف جد و جہد کرنے کے نتیجہ میں جہنم میں ڈالے گئے اور دوسرا وہ گروہ جنہوں نے فروتنی اور عاجزی سے اپنی زندگی کو گزارا اور خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستہ پر چل کر اعمالِ صالحہ بجالائے۔وہاں ایک لمبا مضمون بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اس گروہ کے متعلق جو جنت میں ہے۔فرماتا ہے۔إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (الصفت : (۶) کہ یہ مومنوں کی حالت بے شک بڑی کامیابی ہے اور ساتھ ہی فرما یا لِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَمِلُونَ (الصفت : ۶۲ ) کہ کام کرنے والوں کو اس قسم کے کام کرنے چاہئیں کہ جن کا آخری انجام ان کے لئے اچھا اور مفید نکلے۔