خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 251
خطبات ناصر جلد اول ۲۵۱ خطبہ جمعہ ۱۳ رمئی ۱۹۶۶ء ہمارے ہیں اور ہمارے بنائے ہوئے انھوں کے مقابلہ میں جس اللہ کو پیش کیا جاتا ہے چونکہ وہ الهَتِنا میں شامل نہیں وہ ہمارا بنا یا ہوا رب نہیں ہے اس لئے ہم اس کی تو حید کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں اور پھر ہم اسے قبول کریں بھی تو ایک شاعر اور مجنون کے کہنے پر جو جھوٹی بات کو خوبصورت پیرایہ اور احسن رنگ میں پیش کر رہا ہے اور اسے کوئی سحر ہو گیا ہے کوئی جن چمٹا ہوا ہے یہ بڑا حقیر انسان ہے جو باتیں کر رہا ہے گو وہ بظاہر دل کو موہ لینے والی ہیں لیکن ایسے حقیر انسان کے منہ سے ایسی باتیں نہیں نکل سکتیں اس لئے معلوم ہوا کہ کوئی جن اس کے ساتھ چمٹا ہوا ہے اور وہ اسے اس قسم کی شاعرانہ باتیں سکھا رہا ہے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے شرک کی حقیقی اور اصلی وجہ کی نشاندہی کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ توحید کو اس لئے ٹھکراتے ہیں کہ وہ لتارِكُوا الهتنا کے لئے تیار نہیں ہوئے۔وہ کہتے ہیں کہ اپنے علم پر ہم اس لئے بھروسہ رکھتے ہیں کہ یہ علم ہمارا ہے ہم دنیوی جاہ و جلال پر اس لئے اتنا بھروسہ رکھتے ہیں ( جتنا کہ ہمیں خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے ) کہ یہ جاہ وجلال اور یہ عظمتیں ہماری ہیں اور ہماری طرف منسوب ہونے والی ہیں یہ مادی اسباب اور مال و دولت جس کے بل بوتے پر ہم دنیا میں اپنی خدائی قائم کرنا چاہتے ہیں۔یہ کسی غیر کے نہیں بلکہ ہمارے ہیں۔ہم الھینا یعنی اپنے خداؤں کو چھوڑ کر خدائے واحد کی پرستش کرنے کے لئے تیار نہیں۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ اباء اور استکبار کے نتیجہ میں شرک جلی بھی پیدا ہوتا ہے اور شرک خفی بھی پیدا ہوتا ہے۔بعض لوگ تو کھلم کھلا خدائے واحد کو خدائے واحد قرار نہیں دیتے اور نہ اسے تسلیم کرتے ہیں بلکہ وہ اس کے ساتھ سورج یا چاند یا بعض درختوں ( ہندولوگ بڑ کے درخت کی پوجا کرتے ہیں ) یا بعض جانداروں (جیسے سانپ) کی پرستش کرتے ہیں یا اپنی دنیوی عزت، وقار اور جاہ وجلال یا اس علم کو جو انہوں نے اپنی قوتوں کے نتیجہ میں حاصل کیا ہوتا ہے سب کچھ سمجھتے ہیں۔حالانکہ یہ سب کچھ حقیقتا اللہ تعالیٰ کی عطا کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے لیکن وہ اس چیز کو سمجھتے نہیں۔وہ اپنے علم کی وجہ سے خدائے واحد ویگانہ سے منہ پھیرتے ہیں جیسے مثلاً کمیونسٹ ہیں۔کمیونسٹ ممالک نے علوم اور ایجادات میں بہت ترقی کی ہے اور بجائے اس کے کہ وہ خدا تعالیٰ