خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 242 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 242

خطبات ناصر جلد اوّل ۲۴۲ خطبہ جمعہ ۲۹ را پریل ۱۹۶۶ء اس کو ساتویں آسمان تک اُٹھا کر لے جاتا ہے اور عزت کے نہایت بلند مقام پر اسے فائز کر دیتا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات مختلف انبیاء کو ان کے درجات کے مطابق مختلف آسمانوں میں دیکھا۔کسی کو پہلے کسی کو دوسرے اور کسی کو تیسرے آسمان پر مذہبی دلائل کی رو سے روحانی آسمان بھی سات ہیں اور سب سے بلند تر ساتواں آسمان ہے پس السَّمَاءِ السَّابِعَةِ کے معنی یہ ہوئے کہ جس قدر بلندی اور رفعت تک پہنچنا کسی انسان کے لئے مقدر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ اتنی ہی روحانی رفعتیں تواضع اور فروتنی کے طفیل اسے عطا کر دیتا ہے۔پس جو شخص تواضع سے کام لیتے ہوئے اپنے آپ کو نہایت ہی حقیر اور عاجز سمجھے گا اور سب قدرتوں اور سب فیوض کا سر چشمہ اور منبع صرف اپنے خدا کو یقین کرے گا اور ایمان رکھے گا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی نصرت اور مدد اس کو سہارا نہ دے تو وہ خاک پا کیا اس سے بھی کم تر ہے۔تو یقیناً وہ خدا کے فضلوں کا وارث ہو گا اگر ہم نے اللہ تعالیٰ کے ان وعدوں کا وارث بننا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں دیئے گئے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے مقام عبودیت کو ہمیشہ پہچانتے رہیں اور عجز و فروتنی کے ساتھ اپنے کو لائے محض جانتے ہوئے اپنے خیالات اور خواہشات کو مٹا کر محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر خدمت کرتے چلے جائیں اور اپنے کو اتنا حقیر جانیں کہ کسی اور چیز کو ہم اتنا حقیر نہ سمجھتے ہوں۔اگر ہم اپنے اس مقام کو پہچانے لگیں تو پھر ہمارا خدا جو بڑا دیا لو ہے ہمیں اپنے فضل سے بہت کچھ دے گا۔انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۸ رمئی ۱۹۶۶ ء صفحه ۲، ۳)