خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 235 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 235

خطبات ناصر جلد اول ۲۳۵ خطبہ جمعہ ۲۲ را پریل ۱۹۶۶ء بڑھتی نہیں بلکہ اکٹھے کھانے کھا لینے سے پیٹ خراب ہو جاتا ہے اسہال شروع ہو جاتے ہیں وغیرہ اور بجائے فائدہ کے نقصان ہو جاتا ہے اسی طرح روحانی قوت کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ روح کو روحانی غذا معین اوقات میں پہنچتی رہے ورنہ جسمانی بیماریوں کی طرح روحانی امراض اور عوارض روح کو لاحق ہو جاتے ہیں۔مثلاً نماز ہی کو لے لو اگر کوئی شخص صبح کے وقت پانچوں نمازیں اکٹھی ادا کر لے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ اس کو پانچوں نمازیں بروقت ادا کرنے سے جو روحانی غذا حاصل ہو سکتی تھی وہ اسے حاصل ہو جائے گی کیونکہ جہاں تک نماز کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے علم کامل میں یہ ہے کہ روح کو پانچ مختلف اور معین وقتوں میں نماز کی صورت میں غذا ملنا ضروری ہے۔ورنہ روح کمزور ہو جائے گی۔اگر آپ ان پانچ وقتوں کی بجائے ایک ہی وقت میں پانچ نمازیں ادا کرنا چاہیں تو یہ ایک بیہودہ اور لغو خیال ہوگا۔ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ اگر ساتویں دن پینتیس نمازیں ادا کرنے سے روح کی قوت قائم رہ سکتی تو یقینا اللہ تعالیٰ ساتویں دن ہم سے پینتیس نمازیں پڑھوا تا اور روزانہ پانچ وقت نماز ادا کرنے کا حکم نہ دیتا۔تو اللہ تعالیٰ کے علم میں تو یہ ہے کہ روزانہ معین اوقات میں پانچ دفعہ میرے حضور میں حاضر ہوکر اپنی عاجزی ، تذلل اور نیستی کا اقرار کر کے انسان کو روحانی غذا حاصل کرنی چاہیے ورنہ اس کی روحانی قوت قائم نہ رہ سکے گی اور وہ کمزور ہو جائے گا۔اسی طرح حج کرنا ساری عمر میں ایک دفعہ فرض ہے زکوۃ کا ہر سال ادا کرنا ضروری ہے اور مختلف عبادتوں کے لئے مختلف اوقات مقرر ہیں اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں دس سال تک زکوۃ ادا نہیں کرتا دس سال کے بعد یک دفعہ ہی ادا کر دوں گا تو اس کی روحانی طاقت اور قوت یقیناً قائم نہیں رہ سکے گی۔پس یہ جو ہمارے چندے ہیں بعض کو ہر ماہ بعد اور بعض کو ہر چھ ماہ بعد ادا کرنے ضروری ہیں اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو خدا تعالیٰ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر قربانیوں کے نتیجہ میں جو برکتیں اور رحمتیں ہمارے لئے مقدر ہیں وہ انہیں نہیں ملیں گی اور ان میں روحانی کمزوری پیدا ہو جائے گی۔