خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 194
خطبات ناصر جلد اول جماعت کو قائم کیا ہے۔۱۹۴ خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تم یہ دو باتیں کر لو گے یعنی ایک طرف صبر اور تدبیر کو انتہاء تک پہنچا دو گے اور پھر صرف مجھ پر بھروسہ کرو گے اور اپنے نفس کو کلیہ میری راہ میں فنا کر کے کامل توحید پر قائم ہو جاؤ گے تو یہ یا درکھو کہ اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّبِرِينَ میں تمہاری مدد کے لئے آسمان سے اتروں گا اور جب میں آسمان سے اپنی تمام صفاتِ حسنہ کے ساتھ اپنی عظمت اور کبریائی کے ساتھ اور اپنے حسن اور جلال کے تمام جلوؤں کے ساتھ تمہاری مدد کے لئے نازل ہوں گا تو اس وقت نہ روس کی طاقت تمہارا مقابلہ کر سکے گی اور نہ ہی تمہارے سامنے چین کی کوئی حیثیت رہے گی۔امریکہ اور انگلستان کا غرور بھی توڑ دیا جائے گا اور یہ وعدہ پورا ہوگا کہ اسلام دنیا میں غالب آئے گا اور تمام اقوام عالم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گی۔لیکن ہمیں بہر حال یہی ارادہ اور نیت رکھنی چاہیے اور دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ صبر اور صلوٰۃ کی جو تعلیم دیتا ہے ہمیں اس پر عمل کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔آج جمعہ ہے اور شوری بھی شروع ہو رہی ہے اس لئے میں دوستوں سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ دعا کریں کہ اللہ تعالی نمائندگان مجلس مشاورت کو صحیح فکر اور تدبر کی توفیق عطا فرمائے تا وہ صحیح نتائج پر پہنچیں اور شوری میں ایسی تجاویز اور ایسے مسئلے پاس ہوں جن سے اسلام کو قوت ملے اور جن کے نتیجہ میں لوگوں میں اللہ تعالیٰ کا عرفان بڑھنے لگے اور ہمارا قدم کامیابی کی راہ پر آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے اور ہر قسم کی تو فیق دینا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ میں ہے۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۵ جون ۱۹۶۶ ء صفحه ۲ تا ۴)