خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 189
خطبات ناصر جلد اول ١٨٩ خطبه جمعه ۲۵ مارچ ۱۹۶۶ء کرے۔خدا تعالیٰ کی عظمت اس کے جلال اور اس کی کبریائی کو اس ملک کے باشندوں کے دلوں میں بٹھانے کے لئے سعی کرے اور ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہم نے اس ملک کو بھی حلقہ بگوش اسلام کرنا ہے۔پھر چین کولو چین کتنا بڑا ملک ہے۔زمین کے پھیلاؤ کے لحاظ سے بھی اور آبادی کے لحاظ سے بھی اس کی آبادی قریباً ستر انٹی کروڑ کی ہے۔اس کے رہنے والے بھی کمیونسٹ ہو گئے ہیں وہ خدا تعالیٰ کو بھول گئے ہیں اپنے پیدا کرنے والے کے خلاف ہو گئے ہیں۔ابلیس نے تو اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار نہیں کیا تھا اس نے صرف اباء اور استکبار سے کام لیا تھا اس نے خدا تعالیٰ کے وجود کو مانتے ہوئے اس سے یہ درخواست کی تھی کہ مجھے اس بات کی اجازت دی جائے کہ میں تیرے بندوں کو قیامت تک گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہوں مجھے اس بات سے زبردستی نہ روکا جائے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں آزادی ضمیر اور آزادی مذہب کا نظام انسان کے لئے قائم کرنا تھا اس لئے اس نے اسے اجازت دے دی اور کہا ٹھیک ہے ہم چاہتے ہیں کہ انسان آزادانہ طور پر ہمارا عرفان حاصل کرے۔ہم سے تعلق پیدا کرے اس لئے تم سے جو ہوسکتا ہے کرو لیکن جو میرے مخلص بندے ہوں گے ان پر تمہارا کوئی اثر نہیں ہوگا۔غرض شیطان نے خدا تعالیٰ کے وجود کا انکار نہیں کیا تھا لیکن یہ قومیں خدا تعالیٰ کے وجود کا بھی انکار کر رہی ہیں پھر مادی لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ توفیق عطا فرمائی کہ وہ ترقی کرتے چلے جائیں اور مادی سامان اس قدر اکٹھے کر لیں کہ دنیا ان کا مقابلہ نہ کر سکے۔انہوں نے ان ماڈی سامانوں کے مہیا کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق کوششیں کیں اور اس قانون کے مطابق ان کی یہ کوششیں بار آور ہوئیں۔گو اس کا جو نتیجہ انہوں نے نکالا وہ ہمارے نزدیک صحیح نہیں کیونکہ بجائے اس کے کہ وہ شکر اور حمد کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھکتے۔انہوں نے اس کے وجود سے بھی انکار کر دیا۔پس یہ ملک (یعنی چین) بھی بڑا وسیع ہے۔بڑا طاقت ور ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے وجود سے منکر ہے تو ہم نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم اس کے رہنے والوں کو مسلمان بنا ئیں گے تا وہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچاننے لگیں۔پھر انگلستان ہے امریکہ ہے ان کے رہنے والوں کی بڑی اکثریت اگر چہ زبان سے خدا تعالیٰ کے وجود کا اقرار کرتی ہے لیکن ساتھ ہی وہ ایک اور لعنت میں گرفتار ہے۔اس