خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 174 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 174

خطبات ناصر جلد اوّل ۱۷۴ خطبہ جمعہ ۱۱/ مارچ ۱۹۶۶ء حسد اور تعصب کی آگ میں جلنے والا ہے۔وہ شیطان جو سرکشی اور تمرد کی راہ کو اختیار کرنے والا ہے۔وہ شیطان جو خود حق سے دور رہنے والا ہے اور جس کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بندے بھی حق سے دور ہو جائیں وہ غیبت اور بدگوئی کی راہ سے بھائی بھائی کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی کوشش کرے گا اور تمہیں اس بات پر اکسائے گا کہ تم بھی غیبت کرو، تم بھی بدگوئی کو اختیار کر لو، تم بھی امن سکون اور آشتی کی باتیں کرنے کی بجائے بعض کو بعض کے خلاف بھڑ کانے اور ایک کو دوسرے کے خلاف بر انگیختہ کرنے کی کوشش کیا کرو اور فساد اور فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کرو۔شیطان پوری کوشش کرے گا کہ تم جادۂ صداقت سے پرے ہٹ جاؤ اور وہ تمہیں و ورود حق سے دور کر دے لیکن ہم يَنْزَغُ بَيْنَهُم کے مختصر الفاظ میں شیطانی حربوں کا ذکر کھول کر بیان کر دیتے ہیں تا تم ان پر نہ چلو تم حسد نہ کرو اور نہ تم کسی پر یاکسی کے خلاف تعصب کی راہ کو اختیار کر و عدم اطاعت اور بغاوت کے بول نہ بولو سرکشی کی باتیں نہ کرو نہ تم خلاف حق کچھ کہو اور نہ کسی کو خلاف حق کہنے کی ترغیب دوا اگر تم ایسا کرو گے تو تم شیطان کے حملوں سے بچ جاؤ گے اور اگر تم حقیقتاً شیطان کے حملوں سے بچ گئے تو پھر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی تمہارے اقوال اچھے پسندیدہ اور مرغوب ہوں گے اور تم اس کی نگاہ میں بھی اس کے بندے بن جاؤ گے۔پھر آگے فرمایا۔اِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلْإِنْسَانِ عَدُوا مُّبِینا یعنی شیطان جس کی صفات ہم نے اوپر بیان کی ہیں وہ انسان کے لئے ایسا دشمن ہے جو مبین ہے انسان ایک تو اس مخلوق کو کہتے ہیں جو آدم علیہ السلام کی ذریت ہے لیکن عربی زبان میں اس کے معنی اس ہستی کے ہیں جوا کیلے زندگی بسر نہ کر سکے بلکہ اس کے دل میں دوسرے انسانوں کے ساتھ تعلقات پیدا کرنے کی خواہش پیدا ہوتی ہو۔اس کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہو کہ وہ ہم جنس لوگوں سے اُنس رکھے اپنے ہم جنس انسانوں کے ساتھ اُلفت اور محبت قائم کرنے والی ہستی اور وہ ہستی جو دوسری طرف اپنے رب کے ساتھ بھی تعلق رکھنے کی خواہش رکھتی ہے اس کے اندر یہ ودیعت کیا گیا ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے ربّ کے ساتھ تعلق قائم کرے اور اس کی رضا کو حاصل کرے انسان