خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 124 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 124

خطبات ناصر جلد اوّل ۱۲۴ خطبہ جمعہ ۴ فروری ۱۹۶۶ء ہو۔لیکن میں دیکھتا ہوں کہ جماعت اس طرف پوری طرح متوجہ نہیں ہو رہی۔پہلے بھی وہ ستی کی مرتکب ہوتی رہی ہے اور اب بھی وہ ایک حد تک غفلت کا شکار ہو رہی ہے۔اس لئے ہمیں اس بارہ میں کوئی عملی قدم اٹھانا چاہیے میں نے سوچا ہے کہ ہم ایک منصوبہ کے ماتحت جماعت کے بچوں اور اس کے نو جوانوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھا ئیں اور پھر اس کا ترجمہ اور اس کے معانی ان کو سکھا دیں۔قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کے سلسلہ میں بڑی اور شہری جماعتوں میں غفلت پائی جاتی ہے اور دیہاتی جماعتوں میں بھی شاید اکثر ایسی ہوں جو اس طرف سے بے توجہی برت رہی ہیں۔چنانچہ پچھلے دنوں جماعت احمد یہ لاہور کے ایک دوست مجھے ملے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ ہمارے حلقہ کی جماعت میں بہت سے ایسے احمدی بچے ہیں جو قرآن کریم ناظرہ پڑھنا بھی نہیں جانتے اور یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔ہمیں اس کیفیت کو جلد تر بدل دینا چاہیے ایسا کرنا ہمارا اولین فرض ہے۔اس سلسلہ میں جو ابتدائی منصوبہ میں جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ لاہور کے تمام بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا کام مجلس خدام الاحمدیہ کرے۔اور کراچی کی جماعت کے بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا کام میں مجلس انصاراللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ضلع سیالکوٹ کی دیہاتی جماعتوں میں یہ کام مجلس خدام الاحمدیہ کرے ، ضلع جھنگ میں جو جماعتیں ہیں ان کے بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا کام مجلس انصاراللہ کے سپر د کیا جاتا ہے ان کے علاوہ جو جماعتیں ہیں ان میں اس اہم کام کی طرف نظارت اصلاح وارشاد کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ہماری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ دو تین سال کے اندر ہمارا کوئی بچہ ایسا نہ رہے جسے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا نہ آتا ہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کو اس طرف بڑی توجہ دینی پڑے گی اور اس کے لئے بڑی کوشش درکار ہو گی ہم بڑی جدو جہد کے بعد ہی اس کام میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اس منصو بہ کو کامیاب بنانا نہایت ضروری ہے۔اگر ہم نے الہی سلسلہ کے طور پر ان نعمتوں کو اپنے اندر قائم رکھنا ہے۔جو اللہ تعالیٰ