خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 118 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 118

خطبات ناصر جلد اوّل ۱۱۸ خطبه جمعه ۲۸ جنوری ۱۹۶۶ء میں فرماتا ہے۔فَمَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا - (الكهف : ١١١) یعنی جو شخص ہمارا وصال چاہتا ہے اسے چاہیے کہ نیک اور مناسب حال اور ہمارے احکام کے مطابق اعمال بجالائے اور کوشش کرے کہ ظاہری اور باطنی دونوں قسم کے شرکوں سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کو پاک رکھے۔اس میں کسی قسم کی آمیزش اور ملاوٹ نہ ہونے دے غرض ایسا شخص جو عبادت کے وقت صرف خدا تعالیٰ کی ہی عبادت کرتا ہے اور کسی اور کے سامنے سر نیاز خم نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ کے احکام بجالانے کی ہر وقت کوشش کرتا رہتا ہے۔وہی امیدرکھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرب اسے حاصل ہو جائے گا اللہ تعالیٰ اسے مل جائے گا اور جس شخص کو خدا تعالیٰ مل جائے اسے نہ اس جہان کی جنت کی ضرورت رہتی ہے اور نہ اگلے جہان کی جنت اسے درکار ہے دونوں جہانوں کی جنتوں کا منبع جو اسے حاصل ہو گیا۔غرض خوف اپنی جگہ پر ہے اور امید و رجاء اپنی جگہ پر ہے۔اسلام نے ہمیں کسی صورت میں بھی نا امید نہیں کیا ہمیں ڈرا یا ضرور ہے۔تنبیہ ضرور کی ہے کہ تم ڈرتے ڈرتے اپنی زندگی گزار و اور ان احکام پر عمل کرو جو ہم نے تمہارے لئے نازل کئے ہیں۔ان بداخلاقیوں اور بداعمالیوں سے بچتے رہو جن سے بچنے کی ہم تمہیں تلقین کرتے رہتے ہیں اور ہمیں بشارت دی ہے کہ اگر تم ایسا کرو تو میں تمہارے لئے اس دنیا میں بھی جنت کا ماحول پیدا کر دوں گا۔لیکن تم اپنے عمل پر کبھی بھروسہ نہ کرو۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات اتنی ارفع ، اتنی اعلی ، اتنی شان اور اتنی طاقت والی ہے کہ اگر کسی انسان کے دماغ میں معمولی عقل بھی ہے تو وہ ایک لحظہ کے لئے بھی یہ نہیں سوچ سکتا کہ میں اس کی رضا کی جنت کو زور بازو سے حاصل کرلوں گا اور میں اسے اپنے اعمال کے زور پر خوش کرلوں گا۔اگر ہمارے اعمال خدا تعالیٰ کے ان احسانات کے مقابلہ میں رکھے جائیں جو اس نے ہم پر ہمارے پیدائش کے وقت سے لے کر موت تک کئے ہیں۔تو ہمارے اعمال ان احسانوں کے مقابلہ میں بطور شکر کے بھی کافی نہیں۔تو جب انسان نے پہلے قرضے ہی ادا نہیں کئے اور نہ وہ ادا کر سکتا ہے تو اپنے اعمال کی جزا کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔جب تک کہ خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت اس کے شامل حال نہ ہو۔