خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 103 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 103

خطبات ناصر جلد اول ۱۰۳ خطبہ جمعہ ۲۱ جنوری ۱۹۶۶ء اور نہ اس کے قرب کی راہیں ہم پر کھل سکتی ہیں۔بہر حال حضرت ابو یزید بسطامی فرماتے ہیں کہ ۳۰ سالہ عبادت کے بعد بھی خدا تعالیٰ کے منشا کے مطابق انہیں ایک کہنے والے نے کہا تو یہی کہا کہ تم نے اگر ۳۰ سال دن اور رات عبادت کی ہے تو یہ ایک قابل تعریف فعل ہے لیکن یہ کبھی نہ سمجھنا کہ تم محض اس عبادت کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضاء حاصل کر سکتے ہو۔بلکہ اگر تم خدا تعالیٰ کا قرب اور اس کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہو تو اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کرو، بلکہ اپنے آپ کو ذلیل اور حقیر سمجھو اور ہمیشہ ڈرتے رہو کہ کہیں تمہارے اعمال خدا تعالیٰ کی نگاہ میں نا پسندیدہ نہ ٹھہریں اور وہ اس کے حضور قبولیت کا شرف حاصل نہ کر سکیں۔پس اگر ساری عمر نہایت اخلاص سے عبادت بجالانے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کا ایک مخلص بندہ اپنی نجات کے متعلق مطمئن نہیں ہوسکتا تو ایک دن کی عبادت سے وہ کس طرح خوش ہوسکتا ہے؟ پس میں یہ نہیں کہتا کہ جمعۃ الوداع کی عبادت میں لوگ زیادہ شوق سے حصہ نہ لیں کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کی عبادت کے لئے شوق سے ایک دن کے لئے بھی آتا ہے میرا کام نہیں کہ میں اس کے رستہ میں روک بنوں۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ محض اس طرح پر آپ اللہ تعالیٰ کی رضاء اور اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے ، اگر تم نے ایک دن یعنی جمعتہ الوداع کو خدا تعالیٰ کی عبادت کی ہے تو تم نے اپنی عمر کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور عبادت میں گزارا ہے گویا تم نے اپنے فرض کا کچھ حصہ ادا کیا ہے اور یہ بڑی اچھی بات ہے لیکن یہ کبھی نہ سمجھنا کہ جمعتہ الوداع یارمضان کی آخری راتوں کا قیام تمہیں تمہارے دوسرے فرائض سے جو تم پر حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارہ میں عائد ہوتے ہیں آزاد کر دیتا ہے، ایسا ہر گز نہیں۔بلکہ ساری عمر کی ریاضتوں اور عبادتوں کے بعد بھی تم ہمیشہ یہ دعا کرتے رہو کہ اے خدا! ہم نے اپنی حقیر کوششیں تیرے قدموں میں لا کر رکھ دی ہیں۔اگر تو چاہے تو انہیں اپنے پاؤں کی ٹھوکر سے پرے پھینک دے لیکن تو بڑا افضل کرنے والا اور رحمن ورحیم خدا ہے ہمیں تجھ سے امید ہے کہ تو ایسا ہر گز نہیں کرے گا، بلکہ محض اپنے فضل سے ہماری ان حقیر کوششوں کو قبول کرے گا اور اپنے قرب اور رضا کی راہیں ہم پر کھول دے گا۔آخر میں میں ایک وصیت پڑھ کر سنانا چاہتا ہوں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ