خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1000 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 1000

خطبات ناصر جلد اوّل خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۶۷ء تیار ہیں۔یہاں تک کہ اگر اللہ تعالیٰ کو یہی پسند ہو کہ اگر ہماری دو بیویاں ہیں تو ہم ایک کو طلاق دے دیں اور اپنے بھائی سے یہ خواہش رکھیں کہ وہ اس بیوی سے عدت گزرنے پر شادی کر لے تو یہ بات بھی ہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن صرف اس حد تک اس لفظ کے معنی کو محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ جب بھی ایک مسلمان بھائی کو ضرورت پڑے تو ہمارا یہ فرض ہے کہ وَالَّذِينَ اوَوُا وَ نَصَرُوا پر عمل کرنے والے ہوں۔یعنی جب بھی ایک مسلمان خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے گھر سے نکلے اور کسی دوسرے مقام تک پہنچے تو اس دوسرے مقام پر رہنے والوں کا یہ فرض ہے کہ وہ ان کو اپنے مکانوں میں رہائش کے لئے جگہ دیں۔جیسا کہ اب جلسہ سالانہ آرہا ہے جلسہ سالانہ پر باہر سے آنے والے سردی کی شدت برداشت کرتے ہوئے اور اپنے بچوں کو اور بیویوں کو انتہائی جسمانی تکلیف میں ڈالتے ہوئے ربوہ میں پہنچتے ہیں۔ربوہ میں آنے کی غرض یا مرکز سلسلہ میں پہنچنے کا مقصد یہ تو نہیں ہے کہ یہاں وہ دنیا کمانا چاہتے ہیں وہ محض خدا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اور قرآن کریم کے احکام کو سننے کے لئے اور اپنے بھائیوں سے ملنے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے جو فضل سال کے دوران جماعت پر ہوتے رہے ہیں ان کو دیکھنے اور ان کا حال سننے کے لئے آتے ہیں وہ صرف اس لئے آتے ہیں اور صرف اس لئے یہ تکالیف برداشت کرتے ہیں کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کو جلسہ پر بلایا تو وہ آواز آپ کی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وہ آواز تھی۔اسی لئے دوست بڑی کثرت سے آتے ہیں۔ظاہری طور پر بڑا دکھ اٹھا کے اور بڑی قربانی دے کر آتے ہیں اور ہر قسم کی کوفت اور تکلیف یہاں برداشت کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں لیکن ہم انہیں جو سہولت اور آرام پہنچا سکیں وہ تو ہمیں پہنچانا چاہیے ( ربوہ کے رہنے والوں کو ) اودا و نَصَرُوا کے ماتحت !!! میں کئی سال افسر جلسہ سالانہ کی خدمت بھی بجالاتا رہا ہوں میں نے دیکھا ہے کہ لکھ پتی جن کی اپنے شہروں میں بڑی بڑی کوٹھیاں خدا کے فضل سے بنی ہوئی ہیں یہاں ان کو سارے خاندان کے لئے میاں بیوی اور بچوں کے لئے ایک چھوٹا سا کمرہ یا ایک غسل خانہ ہی جس میں پرالی پڑی