خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 999 of 1056

خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 999

خطبات ناصر جلد اول ٩٩٩ خطبہ جمعہ ۸/دسمبر ۱۹۶۷ء کا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور مجھے بطور انسان کے اس لئے بنایا ہے کہ میں اپنا وجود اس کی راہ میں کھودوں اور اپنے ارادوں کو چھوڑ کر اس کے ارادوں اور اس کی رضا کو قبول کرلوں اور اس کی معرفت حاصل کر کے اس کے قرب کی راہوں پر چلنے کی کوشش کروں اور میرے دل میں سوائے اس پاک ذات کی محبت کے کسی اور کی محبت باقی نہ رہے۔یہ کامل ایمان ہے جس کی طرف وَالَّذِينَ آمَنُوا میں امَنُوا کا لفظ اشارہ کر رہا ہے۔اور دراصل اس کی دو کیفیتوں کو زیادہ وضاحت کے ساتھ هَاجَرُوا وَجَاهَدُوا میں بیان کیا گیا ہے هَاجَرُوا میں اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ انسان کی نفسانیت پر موت وارد ہو جائے اور اس کی اپنی کوئی خواہش یا اپنا کوئی ارادہ باقی نہ رہے اور وہ کلی طور پر ہر اس چیز سے پر ہیز کرنے والا ہو جس سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے۔پس نفس امارہ کے تمام حکموں کوٹھکرا دینے والا اور اللہ تعالیٰ کے سب حکموں کی پابندی کرنے والا اور تمام حکموں کو ماننے والا ہی پکا مومن ہوتا ہے اور پکے مومنوں کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ جَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں وہ لوگ لگا دیتے ہیں اور اپنی ہر ایک قوت اور خدا داد توفیق سے وہ حقیقی نیکیوں کو بجالاتے ہیں اور باطنی اور ظاہری قومی سارے کے سارے خدا کے لئے اور اس کی راہ میں وقف کر دیتے ہیں۔تو غیر اللہ کی ہر بات ماننے سے انکار اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر اپنا سب کچھ قربان کر دینا اس طرف هَاجَرُوا اور جَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللہ میں اشارہ کیا گیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی مومن کی علامت یہ ہے کہ الَّذِینَ اووا وہ ایک دوسرے کی مدد کرنے والے ہیں اور اپنے گھروں کے دروازے اپنے بھائیوں کے لئے کھولنے والے ہیں۔ایک تو وہ لوگ تھے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے سب کچھ اپنے شہروں میں چھوڑ دیا ( زیادہ تر مکہ میں ) اور مدینہ کی طرف وہ ہجرت کر گئے ان مومنوں کو مدینہ میں رہنے والے انصار نے پناہ دی اور اپنے گھر میں ان کو ٹھہرایا اور وہ یہاں تک تیار تھے کہ اگر خدا کا یہی منشا ہو کہ ہم اپنا سب کچھ نصف نصف کر کے نصف اپنے مہاجر بھائیوں کو دے دیں تو ہم اس کے لئے بھی