خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 825
خطبات ناصر جلد دہم ۸۲۵ خطبہ نکاح ۴ / نومبر ۱۹۸۰ء حصول کی بجائے خدا تعالیٰ کی ناراضگیاں آپ مول لینے والے بن جائیں۔اس واسطے ہم جو بڑے ہیں ہمارا کام ہے کہ ہم تربیت بھی کریں اور دعائیں بھی بہت کریں کہ یہ چھوٹی نسل ، یہ جوان نسل، یہ بچ نسل جو اگلی صدی میں داخل ہو رہی ہے جنہوں نے ایک لمبی عمر اگلی صدی میں بھی پانی ہے۔وہ نمونہ بنیں آنے والوں کے لئے اور ہدایت کا موجب بننے والے ہوں آنے والوں کے لئے۔اس کے بعد، اس دعا کے بعد جو بنیادی دعا ہے میں اب اس نکاح کا اعلان کرتا ہوں۔عزیزہ مکرمہ شاہدہ شیبا بنت عزیزم مکرم مرزا مبشر احمد صاحب کا نکاح عزیزم مکرم دبیر احمد صاحب ابن عزیزم مکرم پیر ضیاء الدین صاحب ساکن اسلام آباد سے دس ہزار روپیہ مہر پر قرار پایا ہے۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے اجتماعی دعا کرائی۔از رجسٹر خطبات ناصر غیر مطبوعہ )