خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 793 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 793

خطبات ناصر جلد دہم ۷۹۳ خطبہ نکاح ۱۸ نومبر ۱۹۷۸ء ہے اور خود ہمارے نزدیک انسان کو ابتدا میں عربی زبان سکھائی گئی تھی۔غرض جب انسانی معاشرہ ، تمدن، رہن سہن اور ہر قسم کے باہمی تعلقات کی بنیا د زبان ہے تو قرآن کریم نے یہ حکم دیا۔قُولُوا قَوْلاً سَدِيدًا اصرف سچ بولنے پر اکتفا نہیں کرنا بلکہ ایسا سچ بولنا ہے جس میں کوئی ہیر پھیر اور ڈھکی چھپی بات نہ ہو۔فرمایا تم آپس میں صاف سیدھی اور کھل کر باتیں کرو گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری اجتماعی زندگی میں بھی اور تمہارے انفرادی تعلقات میں بھی کسی قسم کا فساد اور فتنہ اور بدمزگیاں اور ناراضگیاں اور لڑائی جھگڑے باقی نہیں رہیں گے۔پس اسلام میں قول سدید پر بڑا زور دیا گیا ہے اور اس میں بڑی برکت ہے اس کی طرف ہمیں ہمیشہ متوجہ رہنا چاہیے اور دعا کرتے رہنا چاہیے۔میں اس وقت بھی دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قول سدید کے اصول پر قائم رکھے اور ہماری زندگیوں کو قول سدید کی برکت سے پاک اور مطہر اور خوشحال بنائے اور اطمینان قلب عطا ہو ہمارے درمیان جو بھی رشتے قائم ہوتے ہیں خصوصاً آج کا جو موقع ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے چھ خوشیاں اکٹھی کر دی ہیں۔میں اس وقت چھ نکاحوں کا اعلان کروں گا۔یہ نکاح اور ازدواجی تعلقات کا جو رشتہ ہے اس میں بھی اللہ تعالی متعلقین کو قول سدید کی توفیق عطا کرے اور خدا کے کلام میں جو برکتیں ہیں ان کا وارث بنائے اور یہ سارے نکاح سب کے لئے خیر و برکت کا موجب ہوں۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کے بہت ہی بابرکت ہونے کے لئے حاضرین سمیت دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۸ /جنوری ۱۹۷۹ء صفحه ۶)