خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 787
خطبات ناصر جلد دہم 2A2 خطبہ نکاح ۱/۳ پریل ۱۹۷۸ء ہمارے بزرگ چچا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے نواسے ہیں۔بعض خاندانوں پر اپنی حیثیت کے لحاظ سے بعض ذمہ داریاں بھی پڑ جاتی ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا ہے عزیزہ امتہ الکریم کو کب تو میری ہی بچی ہے۔میرے بھائی کی بیٹی ہے۔عزیزہ کی طرف سے بھی اور ان کے والد صاحب کی طرف سے بھی میں بطور وکیل ہوں۔اس لئے میں مرزا ناصر احمد عزیزہ امیۃ الکریم کو کب صاحبہ بنت مکرم مرزا وسیم احمد صاحب کے نکاح کی پچیس ہزار روپے حق مہر کے عوض عزیزم ماجد احمد خان صاحب ابن مکرم وقیع الزمان خان صاحب ساکن لاہور سے منظوری دیتا ہوں۔دوسر ارشتہ طے پایا ہے ہماری عزیزہ بچی امتہ القدیر طلعت صاحبہ بنت مکرم پیر ضیاء الدین صاحب ساکن اسلام آباد کا عزیزم مکرم میاں عبد الباسط صاحب ابن مکرم میاں عبدالقیوم صاحب ساکن کوئٹہ سے دس ہزار روپے مہر پر۔عزیزہ امتہ القدیر طلعت صاحبہ ہمارے بزرگ میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ عنہ کی نواسی ہیں۔علاوہ اور رشتوں اور تعلقات کے اس وجہ سے بھی وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ہم ان کے اس رشتے کے بابرکت ہونے کے لئے خاص طور پر دعا کریں۔ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے ان رشتوں کے بہت ہی بابرکت اور مثمر ثمراتِ حسنہ بننے کے لئے حاضرین سمیت دعا کرائی۔谢谢您 (روز نامه الفضل ربوه ۱۸ ؍جون ۱۹۷۸ ء صفحه ۶)