خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 673 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 673

خطبات ناصر جلد دہم ۶۷۳ خطبہ نکاح ۲۷ جنوری ۱۹۷۴ء مرد کو قوام ہونے کی حیثیت سے بیوی کی صلاحیتوں کا خیال رکھنا چاہیے خطبہ نکاح فرموده ۲۷ جنوری ۱۹۷۴ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز ظہر تین نکاحوں کا اعلان کیا۔اس موقع پر خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا۔اسلامی شریعت نے مرد کو قوام بنا کر اس بات کا ذمہ دار قرار دیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی صلاحیتوں کی نشو و نما کا بھی خیال رکھے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اُس نے ہر شخص کو استعدادیں بخشی ہیں۔اس لئے ہر مرد کا یہ فرض ہے کہ اس کی بیوی اپنے دائرہ استعداد میں جس حد تک ترقی کر سکتی ہے اُس حد تک وہ اُس کے لئے ایسا انتظام کرے کہ وہ یہ تربیت حاصل کر لے۔اسی طرح عورت پر بھی یہ فرض عائد کیا گیا ہے کہ جب وہ کسی کی بیوی بنے تو اپنے خاوند کی اس قسم کی نیک تربیت کے اثر کو قبول کرنے کے لئے تیار رہے۔وہ اس کی اس تربیت میں مزاحم نہ بنے اور دوسرے اس پر یہ ذمہ داری بھی ڈالی گئی ہے کہ اگر اس کا خاوندا اپنی قوام ہونے کی ذمہ داری کی طرف توجہ نہ کرے یا اگر اس کو اللہ تعالیٰ سے دور لے جانے کی کوشش کرے تو اس کی بیوی کا یہ فرض ہے کہ وہ اس قسم کے اثرات کو قبول نہ کرے۔ایسے موقع پر بجائے اس کے کہ اپنے خاوند کی طرف توجہ کرے وہ اُس عہد وفا کو اور زیادہ پختہ بنائے جو اُس نے اپنے رب سے باندھا ہے۔