خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 545
خطبات ناصر جلد دہم ۵۴۵ خطبہ نکاح ۳ رستمبر ۱۹۷۰ء پر ڈالی ہے یعنی بیوی کا قیام جسمانی لحاظ سے اس کا قیام ذہنی لحاظ سے اس کا قیام اخلاقی لحاظ سے اس کا قیام روحانی لحاظ سے خاوند کے ذمہ ہے بالفاظ دیگر ایک کنوارہ آدمی غلطی کرتا ہے تو اس اکیلے پر ذمہ داری ہے۔ایک کنواری بچی سے غلطی ہو جائے تو اس لڑکی پر ذمہ واری ہے کسی مرد پر ذمہ واری نہیں ہے۔لیکن اگر ایک بیاہی ہوئی بچی سے کوئی غلطی ہو جائے تو دو پر اس کی ذمہ واری عائد ہوتی ہے۔ایک لڑکی پر اور دوسرے اس کے خاوند پر۔اس کا کام تھا کہ دونوں اس طرح یک جان ہو جائیں کہ وہ اس قسم کی غلطی نہ کر سکے۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ بعض لوگ اس آیت کے یہ معنے کرنے لگ جاتے ہیں کہ انہیں عورتوں پر سختی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔اسلام نے کوئی سختی کرنے کی اجازت نہیں دی بلکہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِه خدا کی نگاہ میں تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے ساتھ اچھی طرح پیش آتا ہے اور حسن سلوک کرتا ہے اور اہل کے تعلق میں جو ذمہ واریاں ہیں انہیں ادا کرتا ہے دوسرے بیوی سے کہا کہ تم مرد کا لباس ہو۔خاوند سے کہا بیوی تمہاری زینت کا باعث ہے۔اسلامی معاشرہ میں بہت ساری چیزیں ہیں جو عورت اگر کرے تو خاوند کی زینت کا بھی باعث ہیں مثلاً پر وہ بھی کرے اور اپنی ذمہ واریاں بھی نبا ہے۔ایک مسلمان عورت بزدل اور کم ہمت نہیں ہوا کرتی۔منصورہ بیگم دونوں سفروں میں میرے ساتھ گئی ہیں کئی دفعہ بعض امریکن پوچھتے تھے کہ آپ کی تصویر لے لیں میں کہتا تھا کہ ضرور لو۔ان کے ملکوں میں جس پر دہ کی حالت میں وہ لوگ naked eye سے دیکھ سکتے تھے وہ اگر کیمرے کی آنکھ نے دیکھ لی تو کوئی حرج نہیں یعنی با قاعدہ پر دے کے اندر اور پورا کام کر رہی تھیں۔میری نیت یہ ہوتی تھی کہ ان کے گھروں میں بھی یہ دلیل پہنچ جائے کہ یہ جو تم بعض دفعہ اپنی حماقت کی وجہ سے اعتراض کر دیتے ہو کہ عورت اگر پردہ کرے گی تو وہ عضو معطل ہو کر رہ جائے گی اور اگر کام نہیں کر سکے گی تو اپنی ذمہ واریوں کو نباہ نہیں سکے گی۔یہ غلط ہے۔منصورہ بیگم نے میرے ساتھ ہزاروں میل کا سفر کیا ہے۔میں بتا چکا ہوں