خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 431 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 431

خطبات ناصر جلد دہم ۴۳۱ خطبہ نکاح ۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء ہمیں اور ہماری نسلوں کو اللہ کے ساتھ زندہ تعلق قائم رکھنا چاہیے خطبه نکاح فرموده ۴ اکتوبر ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک ربوه حضور انور نے بعد نماز عصر مندرجہ ذیل دو نکاحوں کا اعلان فرمایا۔۱۔عزیزه خلت ناصرہ بنت مکرم چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر حال امریکہ کا نکاح عزیزم مکرم راشد محمد اللہ دین صاحب ابن مکرم سیٹھ علی محمد صاحب ابن حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب مرحوم آف حیدر آباد دکن حال امریکہ سے بعوض پانچ ہزار ڈالر مہر۔۲۔عزیزہ صادقہ طاہرہ بنت مکرم قریشی عبد الغنی صاحب لاہور کا نکاح عزیزم مکرم امان اللہ صاحب قریشی ابن مکرم قریشی محمد عبد اللہ صاحب ربوہ سے بعوض تین ہزار روپیہ مہر۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت میں دو نکاحوں کے اعلان کے لئے کھڑا ہوا ہوں۔ایک نکاح حیدرآباد دکن کے دو بزرگ خاندانوں کے پوتے اور نواسی کے درمیان قرار پایا ہے۔یعنی لڑکا ہمارے محترم بزرگ سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب مرحوم کا پوتا اور لڑکی سیٹھ محمد غوث صاحب مرحوم کی نواسی ہے اور دونوں اس وقت امریکہ میں ہیں اور امریکہ کے شہری ہیں۔دوسرا نکاح قریشی صاحبان کے خاندان کا ہے جو ربوہ کے رہنے والے ہیں۔لڑکے کے