خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 341
خطبات ناصر جلد دہم ۳۴۱ خطبہ نکاح ۱۵ جنوری ۱۹۶۷ء ہماری جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوسری آیت کے مطابق بھی ایک کثیر حصہ ایسا ہے۔جو اپنے اعمال صالحہ سے یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے قربانی کرنے والے اور نڈر ہوکر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والے اور اپنوں کی تربیت کرنے والے اور غیروں کی اصلاح کی کوشش کرنے والے ہیں۔یہ وہ گروہ ہے (جماعت کا کثیر حصہ ) جس کے اعمال نے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کر کے امت مسلمہ کو ( اور آج امت مسلمہ کی نمائندہ جماعت احمدیہ ہی ہے ) خَيْرَ أُمَّةٍ بنا دیا ہے۔تو پہلا وہ گروہ تھا جو خیر کی طرف بلانے والا تھا۔یہ کثیر حصہ وہ ہے جو امت کو خیر پر قائم کرنے والا ہے۔انفرادی طور پر وہ بھی خیر پر قائم ہیں لیکن ان کا کام اس آیت میں کچھ اور بتایا گیا ہے۔اس دوسرے گروہ میں جو نمایاں شخصیتیں ہماری تاریخ کے سامنے آئی ہیں۔ان میں سے ایک ہمارے محترم بزرگ چوہدری محمد نصر اللہ خان صاحب کی تھی جنہوں نے باوجود اس کے کہ اس طرح وہ واقف زندگی نہیں تھے۔دنیا کے کام بھی انہوں نے کئے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ دنیا میں پڑنے کی وجہ سے وقف کی روح ان کے اندر نہیں پائی جاتی تھی۔دنیا میں جتنا وہ پڑے اتنا ہی انہوں نے دنیا کو زیادہ فائدہ پہنچایا اور اتنا ہی انہوں نے دنیا کو خدا کی طرف زیادہ متوجہ کیا اور اتنا ہی انہوں نے اپنے اسوہ کے، اپنے عمل کے نتیجہ میں دنیا کی توجہ اس طرف مبذول کی کہ صحیح اسلام جب ایک انسان حاصل کر لیتا ہے اور اسلام کا نورا سے مل جاتا ہے تو وہ خیر ہی خیر بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان بزرگ و محترم چوہدری نصر اللہ خان صاحب پر یہ بھی فضل کیا کہ ان کی اولا دساری کی ساری ہی نمایاں طور پر ہمیں اس گروہ میں نظر آتی ہے۔ہمارے بزرگ و محترم چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہیں ہمارے محترم چوہدری محمد عبد اللہ خان صاحب تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے اور ہمارے محترم بھائی اسد اللہ خان صاحب ہیں۔اگر چہ یہ پہلے گروہ کے واقفین میں شامل نہیں لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ یہ دوسری آیت کے مطابق جو گروہ کثیر ہے جن کے کاموں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ پر یہ فضل کیا ہے کہ وہ خَيْرَ أُمَّةٍ بن گئی۔اس گروہ میں یہ شامل نہیں؟