خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 307 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 307

خطبات ناصر جلد دہم خطبہ نکاح ۱۰ راگست ۱۹۶۶ء یہ امرقرآن کریم نے باقاعدہ ایک واضح سکیم کی صورت میں ہمارے سامنے رکھا ہے۔اگر اس بات کا خیال رکھا جائے تو جائز فیملی پلینگ بن جاتا ہے۔قرآن کریم اس بات کو تو پسند نہیں کرتا کہ انسان خدا کی بجائے دنیا کا رازق بنے کی کوشش کرے اور یہ کہے کہ چونکہ کھانے کو نہیں اس لئے نسل کم ہونی چاہیے لیکن قرآن کریم یہ ضرور کہتا ہے کہ ہم نے معاشرہ کی صحت ،تمہاری صحت اور بچے کی نشو و نما کے لئے کچھ قواعد مقرر فرمائے ہیں ان کو مدنظر رکھو۔اس کے نتیجہ میں بھائی بھائی اور بھائی بہن کے درمیان جب تین چار سال کا فاصلہ ہوگا تو بچوں کی تعداد خود بخود ۱/۴ ہو جائے گی جبکہ اس تعلیم پر عمل نہ کرتے ہوئے بہت سے لوگوں کے ہاں ہر سال ایک بچہ ہو جاتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ ہم ہر سال بچے کی اجازت نہیں دیتے کم از کم تیس مہینے کا فاصلہ ہونا چاہیے اور ضرور ہر تین سال یا سوا تین سال کا ہونا چاہیے اور اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔اگر مثلاً ماں بیمار ہو۔اگر بچہ کی صحت ایسی ہے کہ ماں کو اس بچے کی نگہداشت پر زیادہ توجہ اور وقت دینا چاہیے۔وہ دو، اگر دو پہلے ہوں تو تین ، اگر تین پہلے ہوں تو چار بچوں کی نگہداشت نہیں کرسکتی۔تو زائد بوجھ اس پر نہ ڈالو۔پس اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا کہ ہم نے تمہیں ( مردوں کو ) معاشرہ میں کمانے والا حصہ بنایا ہے اور اس وجہ سے کہ تم خرچ کرتے ہونا جائز فائدہ نہ اٹھانا بلکہ یہ یا درکھنا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوّامر بنایا ہے اور قوام کی حیثیت سے جو ذمہ داریاں تم پر عائد ہوتی ہیں وہ تمہیں نبھانی چاہئیں۔قوام کی دوسری شکل (روحانی) یہ بنتی ہے۔بِمَا فَضَّلَ اللهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ کہ اللہ تعالیٰ نے مرداور عورت کے رشتہ میں میاں بیوی ہوں ، باپ اور ماں ہوں، یا بھائی اور بہن ہوں ان سب میں مرد کو مؤثر بنایا ہے۔یعنی یہ اثر ڈالنے والا ہے اور عورت اثر کو قبول کرنے والی ہے۔یہ ایک جزوی فضیلت اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر دی ہے اور اس کے نتیجہ میں ایک بہت بڑی ذمہ داری مرد پر ڈالی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے تمہیں یہ فضیلت دی ہے کہ تم اثر انداز ہوا اور عورت چاہے بیوی ہو۔چاہے بیٹی ہو۔چاہے ماں ہو تمہارے اثر کو قبول کرتی ہے اور اس کے نتیجہ میں بہت سے ایسے اعمال بجالاتی ہے کہ اگر تمہارا اثر غلط ہو گا تو اس کے وہ اعمال بھی درست نہ ہوں گے۔