خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 4 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 4

خطبات ناصر جلد دہم ۴ خطبہ عید الفطر ۲۳ جنوری ۱۹۶۶ء يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَرُ أُولُوا الْأَلْبَابِ (الزمر : ١٠) کیا جو شخص رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کی صورت میں فرمانبرداری کا نمونہ دکھاتا ہے اور آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید رکھتا ہے۔وہ نافرمان کی طرح ہو سکتا ہے؟ تو کہہ دے کیا علم والے لوگ اور جاہل برابر ہو سکتے ہیں۔نصیحت تو صرف عقلمند لوگ حاصل کیا کرتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بشارت دی ہے کہ اس کی نگاہ میں وہ لوگ جو رات کے اوقات میں سجدہ کرتے ہوئے اور قیام کرتے ہوئے عاجزی سے اپنی اطاعت خدا تعالیٰ کے حضور پیش کرتے ہیں وہ اس کی نگاہ میں بڑا درجہ رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ یہاں مومن کی عبادت کے قبول ہونے سے پہلے کی حالت کو بیان کرتا ہے۔فرماتا ہے کہ وہ دن کو بھی عبادت کرتا ہے اور روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام بھی کرتا ہے يَحْذَرُ الأخرة۔اس کے باوجود وہ اس بات سے ڈرتا رہتا ہے کہ کیا اس کا انجام بخیر ہوگا یا نہیں۔کیا خدا تعالیٰ اس کی عبادت کو قبول بھی کرے گا یا نہیں کیونکہ بعض مخفی گناہ ، لغزشیں اور کوتاہیاں ایسی ہیں جو اس کے اعمال کو اس طرح بگاڑ دیتی ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں قابل قبول نہیں رہتے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقی مومن دن کو بھی عبادت کرتا ہے اور رات کو بھی قیام کرتا ہے اور تنہائی اور خاموشی میں خدا تعالیٰ کے حضور عجز کا اعتراف کرتا ہے اور اس سے اطاعت کا عہد باندھتا ہے لیکن باوجود اس قدر عبادت بجالانے کے اسے ان اعمال کے بجالانے پر کوئی فخر نہیں ہوتا اور اسے اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ان اعمال کو ضرور قبول کرے گا۔آخرت کے معنی بعد میں آنے والی چیز کے ہوتے ہیں اور کسی نیک عمل کے بعد میں آنے والی چیز اس کی قبولیت اور نیک انجام ہوتا ہے يَحْذَرُ الْأَخِرَةَ مومن نیک اعمال بجالانے کے بعد بھی ڈرتا رہتا ہے کہ آیا خدا انہیں قبول بھی کرتا ہے یا نہیں؟ کہیں ان میں ایسے نقائص تو نہیں رہ گئے جن کی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی درگاہ سے رد کر دیئے جائیں اور پھر وہ اس ڈر کے باوجود یہ امید بھی رکھتا ہے کہ خدائے رحیم اس کی کمزوریوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پر اپنا فضل اور احسان کرے گا، اس کی مغفرت کرے گا اور اس کی کمزوریوں کو ڈھانپ دے گا۔مغفرت اور